کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، تقسیم ہند کے تمام نا مکمل ایجنڈا بشمول مسئلہ کشمیر اور جونا گڑھ پر ہر سطح پر آواز بلند کریں گے، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کا کانفرنس سے خطاب

12

اسلام آباد۔14ستمبر  (اے پی پی): وزیر مملکت برائے پارلیمانی ا مور علی محمد خان اور ریاستوں و سرحدی امور کے وزیر صاحبزادہ محبوب سلطان نے کہاہے کہ آئینی و قانونی طور پر جوناگڑھ پاکستان کا حصہ ہے،وزیراعظم  عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جہاں کشمیر کا ایشو اٹھایا وہیں جونا گڑھ کا مسئلہ بھی عالمی برادری کے سامنے رکھا ، بھارت جموں وکشمیر ، حیدر آباد اور جونا گڑھ پر غیر آئینی قابض ہے ، مودی کو خبردار کرتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں قتل عام بند کرے اور عالمی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا حق رائے دہی دے ۔ان خیالات کا اظہار15 ستمبر 1947 یوم الحاق جونا گڑھ کی مناسبت سے مسلم انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام “جوناگڑھ: چیلنج اور امکانات” کے عنوان سے منعقدہ قومی کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔قبل ازیں کانفرنس کے تیسرے سیشن میں مختلف جامعات کے اساتذہ نے ریاست جونا گڑھ کی آئینی و قانونی حیثیت پر اپنے تحقیقی مقالہ جات پیش کیے جن میں ثابت کیا گیاکہ آئینی و قانونی لحاظ سے ریاست جونا گڑھ اب بھی پاکستان کا حصہ ہے ۔مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جوناگڑھ کا پاکستان سے الحاق قائداعظم محمد علی جناح کا خواب تھا جسے شرمندہ تعبیر کرنا ہمارا فرض ہے۔ نواب آف جوناگڑھ نواب محمد مہابت خان جی نے نظریہ پاکستان کے تحت پاکستان سے الحاق کیا تھا۔ جوناگڑھ ہمارا تاریخی اور قانونی حق ہے اور زندہ قومیں اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوتیں چنانچہ ہم بھی اپنے حق کیلئے لڑتے رہیں گے جونا گڑھ میں بندوقوں کے سائے تلے ہوئے ریفرنڈم کو نہیں مانتے۔ اس وقت بھی وزیرِ اعظم پاکستان نوابزادہ لیاقت علی خان نے واضح کیا تھا کہ بھارتی فوجی قبضے تلے ریفرنڈم نہیں ہو سکتا اور عالمی قوانین کے تحت جوناگڑھ پاکستان کا حصہ ہے۔ جب عالمی ادارے مسائل کے حل کیلئے فیصلہ کن کردار ادا نہ کر سکیں تو قوموں کو اپنے مسائل کیلئے خود آگے بڑھنا ہوتا ہے۔اس موقع پر نواب آف جوناگڑھ نواب محمد جہانگیر خانجی، جنرل (ر) احسان الحق ،چئیرمین مسلم انسٹیٹیوٹ و دیوان آف جونا گڑھ صاحبزادہ سلطان احمد علی، معروف قانون دان احمر بلال صوفی، میجر جنرل (ر) شاہد حشمت سابق ایڈیشنل سیکرٹری برائے امور خارجہ افراسیاب مہدی قریشی، ڈاکٹر مجیب احمد، ڈاکٹر ثمینہ اعوان ، ڈاکٹر سیف الرحمان ملک اور دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہارکیا ۔ مقررین نے کہا کہ مسئلہ جوناگڑھ اور مسئلہ کشمیر بھارت کی دوغلی پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہ دونوں تنازعات بھارتی توسیع پسندانہ عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر اور مقبوضہ جوناگڑھ کے مقدمات ہمیں بیک وقت عالمی سطح پہ لڑنے چاہئیں۔ 15 ستمبر یوم الحاق جونا گڑھ ہے اور اس موقع پر سرکاری سطح پہ تقریبات منعقد ہونی چاہئیں تاکہ اس مسئلہ پر نہ صرف نوجوان نسل میں آگاہی پھیلائی جائے بلکہ بھارتی جارحیت اور توسیع پسندانہ عزائم کو بے نقاب کیا جائے کہ وہ عالمی قوانین کو کسی خاطر میں نہیں لاتا۔ مقررین نے مزید کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے جس طرح کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پہ اجاگر کیا ہے اسی طرح جوناگڑھ کے مسئلہ کو بھی ہر عالمی فورم پر اٹھانا چاہیئے۔ وزارتِ خارجہ میں جوناگڑھ ڈیسک قائم کیا جانا چاہئے جو جوناگڑھ کے مسئلہ پرمختلف عالمی حلقوں میں آگاہی پیدا کرے۔ اسی طرح وفاقی دارالحکومت میں جوناگڑھ ہاو س کا قیام عمل میں لانا چاہئے۔ مقررین نے مزید کہا کہ قائداعظم اور نواب آف جوناگڑھ کے مابین طے پانے والی الحاقی دستاویز عالمی قوانین کے مطابق ہے – ہم پر قائداعظم کا قرض ہے کہ اس مسئلہ کو حل کریں اور منطقی انجام تک پہنچائیں۔مقررین نے اس امر کا بھی اظہار کیا کہ مسئلہ جوناگڑھ پر مختلف یونیورسٹیز میں تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دیا جانا چاہئے تاکہ نئے ابھرتے عالمی تناظر کے مطابق پاکستان کے مو قف کو بہتر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ جوناگڑھ بھارتی قبضے سے قبل فلاحی ریاست تھی۔ نواب آف جوناگڑھ کا اپنی رعایا کے ساتھ بہت قریبی تعلق تھا اور عوام کا بہت خیال رکھا جاتا تھا۔ جوناگڑھ کمیونٹی کے لوگ آج بھی نواب آف جوناگڑھ کے ساتھ وفادار ہیں۔