اسلام آباد۔15ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان اس وقت تاریخ کے مشکل دوراہے پر ہے، موجودہ افغان حکومت عالمی برادری سے تعاون و مدد اور قبولیت کی خواہاں ہے، افغان عوام کی تاریخ ہے کہ انہوں نے کبھی کسی کٹھ پتلی حکومت کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی افغانستان کو باہر بیٹھ کر کنٹرول کیا جا سکتا ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے، پاکستان کسی اور کی جنگ لڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، ہم امریکہ کے ساتھ ویسے ہی تعلقات چاہتے ہیں جیسے اس کے بھارت کے ساتھ ہیں، افغانستان میں افراتفری سے پاکستان کو دہشت گردی اور مزید پناہ گزینوں کی پریشانی ہے۔
بدھ کو امریکی نشریاتی ادارے ”سی این این” کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِاعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت خواتین کو با اختیار اور تعلیم یافتہ پر یقین رکھتی ہے۔اگر طالبان اپنے مطابق خواتین کو حقوق دینا چاہتے ہیں، وہ انسانی حقوق چاہتے ہیں اور وہ عام معافی دینا چاہتے ہیں تو وہ واضح طور پر عالمی سطح پر قبولیت چاہتے ہیں۔ افغانستان کی موجودہ حکومت جس طرح واضح طور پر یہ محسوس کرتی ہے کہ عالمی مدد کے بغیر وہ بحران کو نہیں روک سکتی ہمیں ان کی مدد کرنی چاہئے اور انہیں درست سمت میں آگے لے جانا چاہئے۔ خواتین کے حقوق سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سوچنا غلطی ہے کہ باہر سے بیٹھ کر کوئی افغان خواتین کو حقوق دے سکتا ہے، افغان خواتین طاقتور ہیں اور انہیں وقت دیا جائے، افغان خواتین کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔
فاروق