اسلام آباد،29اکتوبر (اے پی پی):قومی سلامتی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ٹی ایل پی کے ساتھ صرف آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مذاکرات کئے جائیں گے، مزید قانون شکنی پر کوئی رعایت برتی جائے گی نہ ہی ناجائز مطالبات تسلیم کئے جائیں گے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ریاست کی حکمرانی کو قائم رکھنے کیلئے تمام اقدامات یقینی بنائے جائیں، کسی بھی گروپ کو امن عامہ کی صورتحال خراب کرنے اور حکومت پر دبائو ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا 35واں اجلاس جمعہ کو یہاں وزیراعظم ہائوس میں منعقد ہوا جس میں وفاقی وزراء، مشیر قومی سلامتی، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، ڈی جی آئی ایس آئی، آئی بی و ایف آئی اے اور سینئر سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی کے اجلاس میں کو ملکی داخلی صورتحال اور ٹی ایل پی کے احتجاج کے حوالہ سے بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی گروپ یا عناصر کو امن و عامہ کی صورتحال بگاڑنے اور حکومت پر دبائو ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کمیٹی کے اجلاس میں ٹی ایل پی کے احتجاج کے دوران جان و مال کو نقصان پہنچانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قانون کی عملداری میں خلل ڈالنے کی مزید کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ کمیٹی نے پولیس کی پیشہ وارانہ کارکردگی اور تحمل کو خراج تحسین پیش کیا جس کے 4 اہلکار شہید اور 400 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ کمیٹی نے اعادہ کیا کہ تحمل کا مطلب ہر گز کمزوری نہ سمجھا جائے، پولیس کو جان و مال کے تحفظ کے لئے دفاع کا حق حاصل ہے، ریاست پرامن احتجاج کے حق کو تسلیم کرتی ہے تاہم ٹی ایل پی نے دانستہ طور پر ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کیلئے سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا اور ریاستی حکام اور عام شہریوں تشدد کا نشانہ بنایا، یہ رویہ قابل قبول نہیں۔
کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریاست آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہ کر مذاکرات کرے گی اور کسی قسم کے غیر آئینی اور بلاجواز مطالبات تسلیم نہیں کرے گی۔ وزیراعظم اور قومی سلامتی کمیٹی ممبران نے امن و عامہ کی صورتحال برقرار رکھنے کے دوران پولیس اہلکاروں کی شہادت پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ شہید اہلکاروں کے اہلخانہ کو معاوضہ اور ان کی کفالت یقینی بنائی جائے گی۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت پوری طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پشت پر کھڑی ہے کیونکہ یہ قانون کی حکمرانی قائم اور عوام کا تحفظ کرتے ہیں۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ کسی بھی پچھلی حکومت یا وزیراعظم نے ناموس رسالت ۖ ﷺکے تحفظ اور اسلامو فوبیا کے تدارک کے لئے اندرونی اور بین الاقوامی سطح پر اتنا کام نہیں کیا جتنا اس حکومت نے کیا۔ حکومت نے کامیابی سے ان ایشوز کو اقوام متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر اجاگر کیا۔ رحمت اللعالمین اتھارٹی کے قیام کا بنیادی مقصد بھی اسلام کے خلاف منفی پروپیگنڈے کو رد کرنا ہے۔
کمیٹی نے ٹی ایل پی کی طرف سے ناموس رسالت ﷺکے غلط اور گمراہ کن استعمال کی شدید مذمت کی جس کی وجہ سے فرقہ واریت کو ہوا ملتی ہے اور ملک دشمن عناصر فائدہ اٹھاتے ہیں، اربوں مسلمان حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس سے محبت کرتے ہیں اور عقیدت رکھتے ہیں تاہم کسی بھی دوسری اسلامی ریاست میں املاک اور عوام کو نقصان نہیں پہنچایا گیا، ٹی ایل پی کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کا منفی تاثر گیا ہے۔
کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا کہ ٹی ایل پی نے ماضی میں بھی متعدد بار پرتشدد احتجاج کا راستہ اختیار کیا اور ہر بار غیر حقیقی مطالبات کئے جس کا مقصد محض اپنی سیاسی طاقت میں اضافہ کرنا تھا، ٹی ایل پی کے اقدامات سے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچا اور ریاست کی حکمرانی کو چیلنج کیا گیا اور امن عامہ میں خلل پیدا ہوا۔ اس کے علاوہ ٹی ایل پی کے اقدامات سے ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کے خواہاں دوسرے دہشت گرد گروپوں کا مورال بلند ہوا۔
قومی سلامتی کمیٹی نے متفقہ طور پر اس عزم کو دہرایا کہ ریاست کی خود مختاری کو کسی بھی اندرونی یا بیرونی خطرات سے محفوظ رکھا جائے گا۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کے ٹی ایل پی کے ساتھ صرف آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مذاکرت کئے جائیں گے، ٹی ایل پی کو مزید قانون شکنی پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی کسی قسم کے ناجائز مطالبات تسلیم کئے جائیں گے۔ ریاست کی حکمرانی کو چیلنج کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور ریاست کی حکمرانی کو قائم رکھنے کے لئے تمام اقدامات یقینی بنائے جائیں۔











