پیغام پاکستان کی روح ہے کہ اپنا مسلک چھوڑو نہیں اور کسی کا مسلک چھیڑو نہیں؛ علامہ طاہر   اشرفی

2

راولپنڈی،25نومبر  (اے پی پی):وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے بین الامذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ اور چیئرمین پاکستان علماءکونسل علامہ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہاہے کہ ہمیں اپنے گھروں کے اندر نظام مصطفیٰ ﷺنافذ کرنا ہوگا ، اور اسلام کو اپنے نظریے سے نہیں ،اسلام کو اسلام کے نظریے سے سمجھنا ہوگا، پیغام پاکستان کی روح ہے کہ اپنا مسلک چھوڑو نہیں اور کسی کا مسلک چھیڑو نہیں۔   ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کی سلور جوبلی کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ مجھ سے طلبا کے ایک گروپ نے سوال کیاکہ ہم مولانا طارق جمیل کو مانیں یا خادم رضوی کو مانیں،  میں نے کہاکہ دونوں کا    پانچ نمازوں پہ  اتفاق ہے،  لہذا آج سے یہ شروع کردیں  ۔ دونوں نے کبھی نہیں کہا کہ جھوٹ بولیں  توآج سے سچ  بولنا شروع کردیں  ۔ توحید،ختم نبوت اور ناموس رسالت پر ہمارا ایمان ہے ،اصحاب رسول کی عظمت و صداقت پر ہمارا ایمان ہے اور لوگوں سے حسن سلوک ان سب پہ تمام مکاتب فکر متفق ہیں  تو آئیں پہلے اس طرف آگے بڑھیں  ۔ دوسرے مذاہب کی بات کریں تو ان سب کا بھی اس پر اتفاق ہے کہ جو اپنے ماں باپ کی خدمت کرے گا ،عزت و عظمت پائے گا ،  آئیں اس سے شروع کرلیتے ہیں ۔ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک  پر سب کا اتفاق ہے  توپھر آئیں اس سے شروع کرلیں ۔پاکستا ن کلمہ طیبہ کے نام پر قائم ہوا ،یہاں پر نہ کبھی ناموس رسالتﷺ کوکوئی خطرہ ہوسکتا ہے اور نہ عقیدہ ختم نبوت کوکوئی خطرہ ہوسکتا ہے ،یہ الجھنیں دور کرلیں ۔ عقیدہ ختم نبوت پر بغیر داڑھی  والوں نے  بھی سینے پر گولیاں کھائیں۔نبی پاک ﷺسے محبت کا سرٹیفکیٹ کوئی نہیں دے سکتا ، یہ  بس ہوتی ہے ،جب تک اس ملک کے لوگوں کا ایمان ان کا ضمیر زندہ ہے تو کوئی بھی عقیدہ توحید رسالت پر حملہ نہیں کرسکتا ۔

مختلف مکاتب فکر کے درمیان اختلاف بارے  علامہ طاہر اشرفی نے کہاکہ اس کا بہت ہی آسان فارمولا ہے کہ اپنا مسلک چھوڑو نہیں اور دوسرے کے مسلک کو چھیڑو نہیں ، پیغام پاکستان آئین پاکستان کے بعد سب سے بڑی متفقہ دستاویز ہے ۔اس کا ترجمہ کرتا ہوں تو یہ چار چیزیں ہیں ایک اپنا مسلک چھوڑو نہیں اور دوسرے کے مسلک کو چھیڑو نہیں ،نمبر دو جیو اور جینے دو یہی ہے پیغام پاکستان اور یہی قائد اعظم محمد علی جناح کا پیغام تھا ۔یہاں پر رہنے والا مسیحی ہو ،ہندو ہو ،سکھ ہو یا کوئی اور اقلیت ہو اس کو حق ہے کہ آئین اور قانون کے تحت اپنے مذہب پر بھرپور طریقے سے عمل کرے ۔  اسلام   مذہب کی جبری تبدیلی کا قائل ہی نہیں ہے ،  اسلام کہتا ہے کہ جس نے اسلام کی حقانیت کو سمجھ کر اسلام میں آنا ہے اس کے تو دروازے کھلے ہیں ،کوئی جبر کی بنیاد پر کسی کو مسلمان نہیں بنا سکتا ،اسلام محبت، اخوت اور رواداری کا نام ہے ۔اسلام نے تو ان کو بھی معافی دی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیٹھے ہوتے تھے اور آپﷺ کو معلوم ہوتا تھا کہ یہ منافق ہیں ،ساری کی ساری مسجدیں بھی جمع ہوکر مسجد نبوی کی عظمت کو نہیں پہنچ سکتیں ،ساری کائنات کے مولوی ،فقیہہ ،محدث جمع ہوجائیں پھر بھی نبی پاکﷺ کے نعلین پاک کی خاک کے ذرے کے برابر بھی نہیں ہوسکتے ۔آپ ﷺنے نجران کے مسیحیوں کو اپنی مسجد میں عبادت کی اجازت دی تھی ۔ایک ہی راستہ کہ اسلام کو سمجھا جائے ۔ اسلام کو اپنے نظریے سے نہ سمجھیں  ،اسلام کو اسلام کے نظریے سے سمجھیں ۔