اسلام آباد،17نومبر (اے پی پی):سیکرٹری وزارت اوورسیز پاکستانیز عشرت علی نے کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانی قابل قدر ہیں جن کی ترسیلات سے ملکی معیشت چلتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل میں جرمن ادارہ کی جانب سے تربیت پانے والے ہنرمند افراد میں ٹو ل کٹس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی وفاقی سیکرٹری وزارت سمندر پار پاکستانیز عشرت علی نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیز قابل قدر ہیں جن کے ترسیلات سے اس ملک کی معیشت کا پہیہ چلتا ہے، تربیت پانیوالے ہنرمند افرادکیلئے آج ایک نئے دور کا آغاز ہو گا، کسی بھی معاشرے میں زبانوں کی اپنی اہمیت ہوتی ہے، حکو مت کی کوشش ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کا حق ادا ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ غیر قانونی ایجنٹس کے ذریعے باہر جانیوالوں کا سدباب کریں اور باہر جانیوالے پاکستانی باقاعدہ طریقے سے باہر جائیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہیڈ آف پروگرام امیگریشن فاروڈ ڈویلپمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر منصور نے کہا کہ ان کے ادارے نے اوورسیز سے آنیوالے 11سو ورکرز کو ہنر مند ی کی تربیت میں مدد کی اور اب 9سو لوگوں میں ٹول کٹس تقسیم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیزسے آنے والے پاکستانیوں کے پاس ہنر تو تھا لیکن ان کے پاس باقاعدہ تربیتی سرٹیفکیٹ نہیں تھے اس لئے اب پروگرام بھی ترتیب دیا جا رہا ہے کہ انہیں تربیت کے بعد سرٹیفکیٹ بھی جاری کئے جائیں۔
منیجنگ ڈائریکٹر اوورسیز پاکستانیز فائونڈیشن ڈاکٹر عامر شیخ نے کہا کہ اڑھائی سال پہلے یہ پروگرام شروع کیا گیا تھا اور جولائی 2020ء میں اس حوالہ سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ بھی اوورسیز پاکستانیوں کی مدد کرنا چاہتا تھا تاہم فنڈز اور سٹاف کی کمی کی وجہ سے ہم ایسا کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے تاہم جرمن ادارہ کی معاونت سے یہ سب اب ممکن ہو پایا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تربیت پانیوالے ورکرز عملی میدان میں باعزت روزگار کما سکیں گے۔ اوورسیز پاکستانیز فائونڈیشن کی جانب سے بیرون ممالک سے واپس آنے والے پاکستانی ورکرز کو مستحکم روزگار کی شروعات میں معاونت کے لیے ٹول کٹس پیش کرنے کیلئے تقریب منعقد کی گئی۔
اس پروگرام کیلئے اوپی ایف لاہور میں پاکستانی ،جرمن فیسیلٹیشن اینڈ اینٹگریشن سینٹر کا قیام عمل میں لایا گیا











