اٹک،08 دسمبر(اے پی پی): 32ویں ایم سی ایم سی کے افسران نے ڈی سی آفس اٹک کا دورہ کیا ۔ ڈپٹی کمشنر اٹک عمران حامد شیخ نے بر یفنگ کے دوران ضلع اٹک کی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع اٹک کی کل رقبہ تقریباً سات ہزار مربع کلو میٹر ہے، معاشی لحاظ سے مستحکم ضلع ہے۔ اٹک میں گاؤں کی تعداد کا شمار 455 ہے جبکہ تعلیمی اداروں کی تعداد 1295 ہے اور اس لحاظ سے شرح خواندگی 49.3 فیصد ہے۔اٹک کے ارد گرد 0.7 ملین ایکڑ کا کل رقبہ سال بھر کی کاشت کےلیے استعمال ہوتا ہے اور زرعی انکم ٹیکس کی مد 2.13 ملین ہے۔ اٹک کی ترقیاتی سکیموں میں اب تک کی سکیموں کی تعداد 908 ہے جس پر 13662ملین کی لاگت آ چکی ہے۔ میگا پراجیکٹس میں مدر اینڈ چائلڈ کئیر ہسپتال شامل ہےجس کا افتتاح حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار کے ہمراہ کیا۔
ڈپٹی کمشنر اٹک عمران حامد شیخ کا کہنا تھا کہ اٹک اپنی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔16ویں صدی میں مغل شہنشاہ اکبر کا قائم کردہ اٹک خورد بھی ہے جہاں پر 1583 ء مشہور تاریخی قلعہ بھی قائم کیا گیا۔ضلع اٹک 1904 میں پہلی بار کیمبل پور کے نام سے تشکیل پایا جو اب اٹک کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کی 6 تحصیلیں ہیں۔دفاعی اہمیت کے حوالے سے اٹک کی تین تحصیلوں سے CPEC کا روٹ گزرتا ہے اور یہ اٹک کی دفاعی اہمیت کو ا جاگر کرتا ہے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس ،پاکستان اور آرڈیننس فیکٹری سنجوال شامل ہیں۔ نیو انٹرنیشنل ایئرپورٹ اسلام آباد کا 85 فیصد حصہ اٹک کی تحصیل فتح جنگ میں شامل ہے۔ اٹک کی بڑی انڈسٹریز میں آئل اینڈ گیس کمپنی، فوجی سیمنٹ کمپنی وغیرہ شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ضلع میں ہونے والی کامیاب عوامی فلاحی کاموں کا بھی ذکر کیا ۔ جس میں گڈ گورننس سیل کا قیام شامل ہے جہاں پر تمام متعلقہ محکمے روزانہ کی بنیاد پر اپنی کارگردگی سے متعلق بریفنگ دیتے ہیں اور ساتھ ہی اراضی ریکارڈز سنٹرز کی شفافیت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
ڈپٹی کمشنر اٹک عمران حامد نے شرکاءکو بتایا کہ ضلع اٹک میں کورنا ویکسی نیشن، خسرہ اور روبیلا مہم، ریونیو کی وصولی، انرولمنٹ مہم اور دیگر عوامی اہداف حاصل کرنے میں صوبہ بھر میں نمایاں پوزیشن حاصل کی ہے۔
آخر میں ایم سج ایم سی کے سینئر افسران نے ڈی سی اٹک کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔
سورس:وی این ایس، اٹک