اسلام آباد ۔5جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہاہے کہ اپوزیشن دانشمندی کا مظاہرہ کرے ،ملک میں اگر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو اپوزیشن کے لیے زیادہ مسائل پیدا ہوں گے ، حکومت نے کورونا وبا کے دوران تاریخی کام کیے ہیں،ڈیمز کی تعمیر،صحت کارڈ ایسے منصوبے ہیں جن کی پوری طرح تشہیر نہیں ہو سکی ،معیشت کو دباو سے نکالنے کے لئے عمران خان کی جدوجہد جاری ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بد ھ کو اسلام آباد میں اپنی تیسری کتاب ”لال حویلی سے اقوام متحدہ تک” کے انگریزی ایڈیشن کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری ، وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکورٹی فخر امام ، وفاقی وزیر انسداد منشیات بریگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ،وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات اسدعمر ،وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان ، مختلف ممالک کے سفراءو سنیئر صحافیوں سمیت دیگر شریک تھے ۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہاکہ کتاب ان لوگوں کے لئے لکھی جنھوں نے اپنی سیاست کا کھوکھا خود لگایا ہواور انہیں سیاست ورثے میں نہ ملی ہو ، عمران خان کا شکرگزار ہوں کہ مجھے پندرہویں وزارت داخلہ کی دی جو میرے لئے اعزاز ہے ،میں لال حویلی کے باہر کتابیں بیچ کر مزدوری کرتا تھا ،میں نے جوانی کے سات سال قید میں گزارے،جب سیاست شروع کی تو کچھ بھی نہیں تھا، پرویز مشرف جن دو چینلز کو لائسنس نہیں دینا چاہتے تھے ان کو منایا اور لائسنس دلوائے ، ہم سیلف میڈ لوگ ہیں،میری ہر سانس کشمیریوں کی سانس کے ساتھ ہے ،میں وہ پاکستانی ہوں جو سمجھتے ہیں ملک کا نقشہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا جب تک کشمیر آزادی کے بعد اس میں شامل نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ پبلشر سے گذارش ہے کہ میری چوتھی کتاب میرے مرنے کے پانچ سال بعد شائع کی جائے ، میں ایک سچ لکھ کر مرنا چاہتا ہوں ،یقین دلاتا ہوں کہ عمران خان کے ساتھ آئے ہیں اور ساتھ جائیں گے ،اپوزیشن کا ہر صورت ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات اسدعمر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہماری سیاست میں ہزاروں افراد موجود ہیں اور کسی بھی شخص کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ منفرد ہوگا مشکل ہوتا ہے تاہم یہ بات شیخ رشید کے بارے میں کہی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ شیخ صاحب کی سیاست پر گہری نظر سے ہم بھی سیکھتے ہیں،کابینہ میں آنے کے بعد ہم نے شیخ رشیدکو غور سے دیکھا ، شیخ رشید اپنے حلقے کی بہتری کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے ، وزیر داخلہ بننے کے بعدان کی اپنے پروفیشنل کام پر بہت گرفت ہوئی ۔اسد عمر نے کہاکہ شیخ رشید احمد اپنے کام پر بھرپور گرفت رکھتے ہیں ۔خوش قسمتی ہے کہ آپ جیسے شخص کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، جس طرح عوام کی نبض پر آپ کا ہاتھ ہے اس سے ہمیں کابینہ فیصلوں میں آسانی ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ شیخ رشید کی کتاب دلکش اور دلچسپ ہوگی ، ہماری سیاست میں ارب پتی لوگ آتے ہیں ، ایسے معاشرے میں مڈل کلاس آدمی کا آنا عام بات نہیں ۔اسی طرح شیخ رشید اپنے حلقے کی بہتری کے لیے ہر وقت کوشش کرتے رہتے ہیں۔واضح رہے کہ شیخ رشید احمد نے اپنی پچاس سالہ سیاسی جدوجہد پرمشتمل جامع کتاب ”لال حویلی سے اقوامِ متحدہ تک” تحریر کی جس کے انگریزی ترجمہ پرمشتمل ایڈیشن بھی شائع ہوچکا ہے، یہ کتاب شیخ رشیداحمد کی پچاس برس سے زائد سیاسی جدوجہد کے اہم ترین حالات وواقعات پر مبنی ایک اہم تاریخی دستاویز ہے ، اس کتاب میں ان کے خاندان، بچپن، لڑکپن، زمانہ طالب علمی، سیاست کے آغاز، مشکلات، مسائل، جدوجہدسے لے کر سیاسی انتقام پرمبنی مقدمات اورجیلوں میں بے گناہ کاٹی گئی قید وسزائوں سمیت زندگی کے ہرپہلو کو خوبصورت انداز میں بیان کیاگیاہے۔ کتاب میں شیخ رشید احمد نے اپنی والدہ مرحومہ خورشیدبیگم کی محبت، ان کے انتقال اوراپنی زندگی کے اہم نشیب وفراز کاذکر کیاہے ، انہوں نے اہم واقعات کو انتہائی سادہ اورحقیقی انداز میں بیان کیاہے اور بامحاورہ ترجمہ بھی آسان انگریزی میں کیاگیاہے تا کہ قاری کتاب کوشروع سے آخر تک پڑھے بغیر نہ رہ سکے ، کتاب میں کئی اہم لیڈروں کے سیاسی عروج وزوال کی داستانیں بھی ملتی ہیں اوربہت سے اہم انکشافات بھی رقم ہیں۔ شیخ رشید احمد نے کتاب میں کئی سیاسی مخالفین کا ذکر بھی اتنی ایمانداری سے کیاہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی کیونکہ اکثر لوگ حالات وواقعات کو اپنی مرضی وخواہش کے مطابق توڑ موڑ کر پیش کرتے ہیں لیکن شیخ رشیداحمد نے اپنی خودنوشت میں تمام واقعات کوان کی روح کے مطابق بیان کیاہے جس سے اس کتاب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔کتاب میں واقعات کو افسانوی انداز دینے کی بجائے اس حقیقی ترتیب سے بیان کیا گیا ہے کہ جیسے قاری کوئی فلم یا اپنی آنکھوں سے واقعہ دیکھ رہاہو۔











