بلوچستان کی ترقی موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، حکومت نے ایسے منصوبوں کو ترجیح دی ہے جن سے بلوچستان کے عوام کی زندگیوں پر بہتر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، وزیراعظم عمران خان کابلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت بارے  جائزہ  اجلاس سے خطاب

17

اسلام آباد۔5جنوری  (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بلوچستان کی ترقی موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، حکومت نے ایسے منصوبوں کو ترجیح دی ہے جن سے بلوچستان کے عوام کی زندگیوں پر بہتر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، صوبہ میں انفراسٹرکچر،  زراعت، ماہی گیری، توانائی سمیت مختلف شعبوں کی ترقی اور احساس پروگرام کے تحت بنیادی اشیاء ضروریہ پر سبسڈی پر بتدریج کام تیز ہو رہا ہے، صنعت سازی اور پروسیسنگ پلانٹس کا قیام بلوچستان کے عام عوام کی اقتصادی ترقی کیلئے اہم ثابت ہو گا، مقامی ماہی گیروں کو ٹرالرز کی غیر قانونی سرگرمیوں سے بچانے کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو اپنی زیر صدارت بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے حوالہ سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں گورننس کے ڈھانچہ، سرکاری منصوبوں، ماہی گیری کے شعبہ، کمانڈ ایریا کی ترقی، زرعی شعبہ اور نرسنگ کالجز کے قیام کے حوالہ سے پیشرفت کا جامع جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں روڈ نیٹ ورک، توانائی کے شعبوں کے منصوبوں اور میری ٹائم افیئرز، آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام سیکٹر کے علاوہ گوادر کی ترقی اور صنعت و پیداوار کے منصوبوں کے حوالہ سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 161 منصوبوں میں سے 59 منصوبے رواں مالی سال میں مکمل کئے جائیں گے، اس سلسلہ میں وفاقی اور صوبائی سطح پر مانیٹرنگ اور گورننس کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ منصوبوں پر کام کی رفتار کو تیز کیا جائے۔ اس کے علاوہ ایک مستقل ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا تاکہ بلوچستان کے محروم علاقوں کی پائیدار بنیادوں پر ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ سڑکوں کی تعمیر کے حوالہ سے اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبہ میں بہتر کنکٹیویٹی کیلئے 3788 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر کی جا رہی ہے، اس سلسلہ میں کام تیزی سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ کراچی۔کوئٹہ۔چمن 796 کلومیٹر شاہراہ کی تعمیر کا منصوبہ بھی زیر عمل ہے اور اس پر بہت جلد کام شروع ہو جائے گا۔ ماہی گیری کے شعبہ کے حوالہ سے اجلاس میں بتایا گیا کہ ٹرالرز کے ذریعے غیر قانونی شکار کے حوالہ سے مقامی ماہی گیروں کے تحفظات کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جا رہا ہے اور متعلقہ اداروں کی طرف سے پٹرولنگ کو بڑھایا جا رہا ہے، اس سے مچھلیوں کے غیر قانونی شکار کی روک تھام ہو گی اور ماہی گیری کا تحفظ بھی ممکن ہو گا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ میری ٹائم افیئرز کی وزارت کامیاب جوان پروگرام کے اشتراک سے مقامی ماہی گیروں کو قرضے فراہم کر رہی ہے جس کے ذریعے وہ اپنی صلاحیتوں اور کشتیوں کو بہتر بنا سکیں گے اور کشتیوں میں مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب بھی ممکن ہو سکے گی۔ کمانڈ ایریا ڈویلپمنٹ کے حوالہ سے اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبہ میں زرعی شعبہ کی ترقی اور آبی وسائل کی بہتر مینجمنٹ کیلئے کمانڈ ایریا ڈویلپمنٹ منصوبوں پر کام کی رفتار کو تیز کیا گیا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کچھی کینال منصوبہ تکمیل کے قریب ہے۔ اس کے علاوہ جانوروں کو منہ کھر کی بیماری سے بچائو کیلئے منصوبہ پر بھی کام جاری ہے اور اس سلسلہ میں بین الاقوامی معیار کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی تاکہ گوشت کی برآمد کو بڑھایا جا سکے، اس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو گا بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ توانائی اور پٹرولیم کے منصوبوں پر پیشرفت کے حوالہ سے اجلاس میں بتایا گیا کہ 3 ہزار سولر پینلز کی تقسیم کا عمل جلد شروع ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ ایل پی جی پر سبسڈی کی تجویز بھی زیر غور ہے جس سے مقامی آبادی کی توانائی کی ضروریات پوری ہو سکیں گی۔ میری ٹائم افیئرز کی وزارت نے اجلاس میں ایل این جی ورچوئل پائپ لائن کی درآمد پر پیشرفت سے آگاہ کیا اور بتایا کہ اس سلسلہ میں لائسنس دیئے جا رہے ہیں جس سے صوبے بالخصوص گوادر میں گیس کی صورتحال میں مزید بہتری آئے گی۔ آئی ٹی کے شعبہ اور فاصلاتی تعلیم کے حوالہ سے اجلاس میں بتایا گیا کہ 6372 مقامی نوجوانوں کو تربیت فراہم کی جا چکی ہے جس سے وہ اپنا روزگار کمانے کے قابل ہو سکیں گے۔ اس کے علاوہ 35 ہزار نوجوانوں کو فری لانسنگ اور دیگر تکنیکی کورسز کرائے جائیں گے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ تربت ایئرپورٹ کی ترقی کا منصوبہ بڈنگ کے مرحلہ میں ہے اور تربت، گوادر اور کوئٹہ کے مابین پروازوں کی تعداد بڑھانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اجلاس کو تربت میں کھجور کے پروسیسنگ پلانٹس، چاغی، خضدار، لسبیلہ اور گوادر کے علاقوں میں گوشت کے پروسیسنگ پلانٹس اور میٹل پارک پر پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت خضدار اور صوبے کے دوسرے علاقوں میں نجی شعبہ کے اشتراک سے زیتون کے تیل کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ دریں اثناء گوادر میں کشتیوں کی صنعت کے قیام کا منصوبہ بھی زیر عمل ہے، اس منصوبے کا مقصد مقامی ماہی گیروں کی کشتیوں کو جدید بنانا ہے۔ اجلاس میں گوادر میں 1.2 ملین گیلن پانی کے پلانٹ کے قیام کے بارے میں آگاہ کیا گیا، یہ منصوبہ رواں سال گرمیوں سے پہلے مکمل ہونے کی توقع ہے۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ان منصوبوں پر کام کی رفتار کو تیز کریں بالخصوص ایسے منصوبے جن کا عام آدمیوں کی زندگی سے تعلق ہے ان کو ترجیح دی جائے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین، وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر، وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر، بحری امور کے وفاقی وزیر سیّد علی حیدر زیدی کے علاوہ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو، سی پیک امور بارے  وزیراعظم کے معاون خصوصی خالد منصور اور متعلقہ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔