اسلام آباد،5جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات اسدعمر نے کہا ہے کہ اومی کرون دنیا کے مختلف علاقوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے،پاکستان میں بھی اومی کرون کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے، جن علاقوں میں کورونا ویکسین لگائی گئی وہاں اومی کرون کا پھیلاؤ کم ہے تاہم گنجان رہائشی آبادیوں کا اومی کرون سے متاثر ہونے کا خدشہ زیادہ ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر) این سی او سی (میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ساتھ میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ8نومبر کو جنوبی افریقہ میں اومی کرون کا پہلا کیس سامنے آیا، اومی کرون پہلے والی کورونا اقسام جیسا مہلک نہیں،عوام رش والی جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔انہوں نے کہاکہ عوام ماسک پہنیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں، کورونا سے بچاؤ کیلئے ویکسی نیشن لازمی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا اور برطانیہ میں ویکسی نیشن کرانے والوں کی تعداد زیادہ ہے،ویکسین کرانے والے افراد میں اومی کرون کا خطرہ کم ہے۔
اسدعمر نے کہا کہ کورونا کی نئی لہر شروع ہونے کے واضح اثرات سامنے آئے ہیں،گنجان آبادیوں میں کورونا پھیلاؤ کا خطرہ سب سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہاکہ جن ممالک میں کورونا ویکسین زیادہ ہوئی وہاں کورونا کا پھیلاؤ کم ہے، 3 سے 4 ہفتے میں اومی کرون تیزی سے پھیلا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تیزی سے اومی کرونا پھیل رہا ہے اور فوری طور پر ویکسینیشن کروانا انتہائی اہم ہے،7 روز میں 60 فیصد کیسز لاہور اور کراچی سے آئے۔انہوں نے کہا کہ اومی کرون سے بچاؤ کیلئے ویکسی نیشن بہت ضرروی ہے،شہری ماسک پہنیں اوربھیڑوالی جگہوں پر نہ جائیں۔وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ 8 نومبر کو اومی کرون کا پہلا کیس جنوبی افریقہ میں رپورٹ ہوا اور اب دنیا بھر کی طرح تین سے چار ہفتے میں پاکستان میں بھی اومی کرون تیزی سے پھیل رہا ہے۔
سورس:وی این ایس، اسلام آباد











