رانا شمیم کیس میں شریف ڈاکٹرائن ایک مرتبہ پھر واضح ہو گئی ہے ؛ معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر

30

لاہور،21جنوری  (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ رانا شمیم کیس  میں شریف  ڈاکٹرائن ایک  مرتبہ  پھر واضح  ہو   گئی ہے، عدلیہ  کیخلاف  سازش کا  مرکزی  کردار نواز شریف ہیں ، پاکستان میں  آئین  کے  مطابق  پارلیمانی   نظام ہے ، صدارتی  نظام  ٹیکنیکل  طور پر لاگو نہیں ہو سکتا۔

 انہوں نےجمعہ کے روز 90شاہراہ قائد اعظم ایوان وزیر اعلیٰ میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ نواز شریف لندن بیٹھ کر عدالتی معاملات پر اثر انداز ہو رہا ہے اور  عدلیہ پر حملہ کر رہا ہے،ابھی بھی ہمیں خبر ہے کہ اپنے کیسز پر اثر انداز ہونے کے لیے شریف خاندان ہتھکنڈےکھیل رہا ہے تاہم حکومت پوری طرح محتاط ہے،ایف ائی اے کیس میں ضمانت کے لیے شہباز شریف کی آج پیشی تھی اور آخری دن پر ان کی عبوری ضمانت میں توسیع ہوگئی ہے،وہ جمعہ کے روز 90شاہراہ قائد اعظم ایوان وزیر اعلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ شریف ڈکٹرائن ہے کہ ججز کو خریدو اور اگر نہ بکیں تو حملہ آور ہو جائو’ایسے ہی شریف ڈاکٹرائن کی جانب سے مریم نواز کے خلاف ایون فیلڈ کیس میں جج کی ایک آڈیو لیک کی جاتی ہے اوررانا شمیم کی جانب سے جمع کروایا جانیوالا بیان حلفی ایک اخبار کے مین پیج پر چھاپا جاتا ہے،ایفی ڈیوڈ کا مقصد اسلام آباد ہائی کورٹ میں جاری ایک مقدمے پر اثر انداز ہونا تھا جبکہ اس  بیان حلفی کو کورٹ پروسیڈنگ پر حملہ قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ بیان حلفی جو جمع کروایا گیا وہ  لندن میں نواز شریف کے دفتر میں سائن ہوا  بیان حلفی  سائن کرتے ہوئے سارا چور گینگ موقع پر موجود تھا،اس موقع پر یہ باتیں بھی ہو رہی تھیں کہ رانا شمیم کو اقتدار میں آکر پھر کوئی بڑا عہدہ دیں گے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ احتساب کا عمل دو طریقوں سے ہو سکتا ہے۔اگر بادشاہت ہو تو ان چور ڈاکوئوں کو کمرے میں بند کر کے ان سے لوٹا مال بر آمد کرایا جائے اور دوسرا جمہوری حکومت میں آئین اور قانون کے مطابق کر نا پرٹا ہے اور اس وقت ہم جمہوری ریاست کے اندر رہ کر قوانین کے مطابق کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ایف ائی اے کیسز میں17 ہزار ٹرانزیکشن ہیں جو بے نامی اکائونٹس میں ہوئیں،پاپڑ اور فالودے والوں کے نام اکائونٹ سامنے آرہے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اور طاہر خورشید کے خلاف جو درخواست تھی ،نیب میں وہ کمپلینٹ ویریفیکیشن کی سطح پر ہے ‘وزیر اعلیٰ پنجاب خود بغیر پروٹوکول نیب کے بلانے پر پیش ہوئے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ ایف آئی اے کیس میں ضمانت کے لیے شہباز شریف کی آج پیشی تھی اور آخری دن پر ان کی عبوری ضمانت میں توسیع ہوگئی ،شہباز شریف عوام کو گمراہ کرتے ہیں ،شہباز شریف یا ان کے ترجمان جہاں بھی ملیں ان سے پوچھا جائے کہ گلزار کے اکائونٹ اور ان کے ذاتی اکائونٹس میں جو پیسے جمع ہوئے ہیں ، اس پر انہوں نے کبھی وضاحت نہیں دی،انہوں نے کہا کہ بیٹوں کا کاروبار باپ کے وزیر اعلیٰ ہونے کی وجہ سے پھلتا پھولتا ہے اور جب حساب پوچھا جائے تو کہتے ہیں بچوں سے پوچھیں،جس طرح کیلیبری فونٹ پکڑا گیا تھا اسی طرح چوری بھی پکڑی جا ئے گی ۔