کرپشن کو انسانی حقوق کے مسئلے کے طورپر دیکھنا ہوگا؛وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے منعقدہ سیمینار سے خطاب

30

اسلام آباد،6جنوری  (اے پی پی):وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ  کرپشن،سیاسی، معاشی، سماجی، ثقافتی اور ترقی کے حق سمیت تمام انسانی حقوق کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہے،کرپشن کو انسانی حقوق کے مسئلے کے طورپر دیکھنا ہوگا، اقوام متحدہ کے 2030 کے ایجنڈے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے کرپشن کے خلاف ہماری جنگ لازم ہے،جن ممالک میں لوٹی گئی دولت رکھی گئی ہے، وہ لوٹے گئے اثاثے شرائط کے بغیر ان ممالک کو واپس لوٹائیں،منظم لوٹ مار اور ناجائز اثاثوں کی غیرقانونی منتقلی کے ترقی پزیر اقوام پر بے پناہ منفی اثرات ونتائج مرتب ہوئے ہیں۔

وہ جمعرات کو یہاں کرپشن کے مقابلے اور اس کے انسانی حقوق کے ایجنڈے کے حصول کے عمل پرمرتب ہونے والے سنگین اثرات کے موضوع پر “او آئی سی” کے خودمختار مستقل انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے  سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے وژن کی روشنی میں کرپشن کے خلاف جنگ اور جملہ انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا، ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں سرفہرست ہے۔یہ اچھی حکمرانی اور جمہوریت کی جڑوں پر ضرب لگاتی، ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو مجروح کرتی اور  قانون کی حکمرانی پر اثرانداز ہوتی ہے۔کرپشن، شفافیت، احتساب وجوابدہی، انصاف اور منصفانہ ویکساں مواقع کی فراہمی کی اقدار کے خلاف ہے۔ کرپشن کے نتیجے میں ترقی پزیر ممالک سے ناجائز دولت بڑی مقدار میں بیرون ملک چلی جاتی ہے، اس پر مستزاد معاشی خساروں کا بھاری بوجھ پیدا ہوتا ہے۔ کرپشن، حکومتی نظام کو غیرمستعد اور عضومعطل بنا کررکھ دینے کے علاوہ عوامی وسائل ان ضرورت مندوں سے چھین لیتا ہے جن کے لئے یہ مختص کئے گئے ہوتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ مالیاتی جوابدہی، شفافیت اور ساکھ (ایف اے سی ٹی آئی) پر اقوام متحدہ کے اعلی سطحی پینل نے تخمینہ لگایا ہے کہ لوٹ کی7کھرب ڈالر کی خطیر رقم مالیاتی طور پر دوردراز ”محفوظ ٹھکانوں“ میں چھپائی گئی ہے۔ منظم لوٹ مار اور ناجائز اثاثوں کی غیرقانونی منتقلی کے ترقی پزیر اقوام پر بے پناہ منفی اثرات ونتائج مرتب ہوئے ہیں۔اس بات میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کہ عوامی خزانے سے لوٹی گئی اس دولت سے تعمیر و ترقی کیلئے درکار، ضروریات کو پورا کیاجاسکتا تھا، عوام کو غربت سے چھٹکارا دلایاجاسکتا تھا، بچوں کو تعلیم فراہم ہوسکتی تھی،ان رقوم سے، خاندانوں کو ضروری ادویات فراہم کی جاسکتی تھیں اور ہر روز موت کے منہ میں جاتے ہزاروں افراد کوبچایا جا سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ کورونا عالمی وبا نے موجودہ عدم مساوات کی خلیج کو مزید بڑھادیا ہے لاکھوں لوگوں کو بدترین غربت میں دھکیل دیا ہے اور لاکھوں لوگ اس کے نتیجے میں روزگار سے محروم ہوچکے ہیں۔ان حالات میں کرپشن اور ناجائز سرمائے کے بہاﺅ کو جاری رہنے دینا کسی جرم سے کم نہیں۔ قومی اور عالمی سطح پر فوری اور بھرپور کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ ترقی پزیر ممالک کا بہتا لہو بند ہوسکے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ کرپشن کے خلاف اقوام زمتحدہ کے کنونشن (یو۔این۔سی۔اے۔سی) کو منظور ہوئے 15 سال گزر چکے ہیں۔ یہ کنونشن اس وقت انسداد رشوت ستانی کا واحد عالمی قانون ہے۔ہمیں اقوام متحدہ کے انسداد رشوت ستانی کے کنونشن کے تحت برآمد ہونے والی ناجائز دولت کے ضمن میں اضافی پروٹوکول (ضابطے) کے امکان کی راہ بھی تلاش کرنی چاہئے تاکہ اس عالمی قانون کی معاونت ممکن ہوسکے۔اس کے ساتھ ہی ساتھ کرپشن کو انسانی حقوق کے مسئلے کے طورپر دیکھنا ہوگا اور اس ضمن میں ’انسانی حقوق کی بنیاد‘ پر کرپشن کے خلاف سرگرم عمل ہونا ہوگا تاکہ کرپشن کے انسداد اور اس سے بچاﺅ کی کوششوں کو تقویت ملے اور عالمی سطح پر انسداد رشوت سستانی کے قوانین وضابطوں پر موثر عمل درآمد فروغ پائے۔ اب تک کرپشن ناقابل شکست رہی ہے لہذا انسانی حقوق کی فراہمی کے ضمن میں بھی معدود پیش رفت ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ  اسلام ایسا نظام ہے جو ہمیں انسانی زندگی کے ہر پہلو پر راہنمائی فراہم کرتا ہے۔  اسلامی تعلیمات کی روشنی میں وزیراعظم عمران خان نے کرپشن سے پاک  پاکستان کا وژن دیا۔وشیر خارجہ نے کہا کہ ہماری مسلسل کوششوں کے نتیجے میں واضح مثبت سماجی ومعاشی تبدیلیاں دکھائی دے رہی ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ  او۔آئی۔سی  ممالک کو ایسے تخلیقی خیالات اور اقدامات کو مستعدی سے کھوج لگانا ہوگا جن سے کرپشن سے بچاﺅ اور اس کے ارتکاب پر سزا سے استثنٰی کے خاتمے کا موجودہ عالمی فریم ورک مزید توانا ہو۔ انہوں نے کہا کہ  ایف۔اے۔سی۔ٹی۔آئی  پینل رپورٹ اور گزشتہ برس کرپشن کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اولین خصوصی اجلاس اور اس میں سیاسی ڈکلیریشن کی منظوری، کرپشن سے مقابلے اور اس سے بچاﺅ کی عالمی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔تاہم یہ دستاویزات اس وقت تک بامعنی اقدامات میں تبدیل نہیں ہوں گی جب تک ان پر جذبے وتندہی سے عمل پیرا ہونے کے طریقہ کار موجود نہیں ہوں گے۔اس ضمن میں  او۔آئی۔سی  ممالک کو جرآت مندانہ اقدامات کرنا ہوں گے۔  اول قدم کے طورپر  او۔آئی۔سی  بین الحکومتی ایڈھاک کمیٹی کے قیام پر غور کرسکتی ہے جو ضمنی قانونی فریم ورک کے لئے ٹھوس اور تکنیکی تجاویز مرتب کرے۔ اس ضمن میں  او۔آئی۔سی  کے ماہرین کی مجوزہ ایڈھاک کمیٹی درج ذیل ترجیحی پہلوئوں پر غور کرسکتی ہے:پہلا،  او۔آئی۔سی ممالک کے اندر کرپشن اور لوٹے جانے والے اثاثہ جات کے مسئلے پر باہمی قانونی مدد کے لئے  او۔آئی۔سی   کا پروٹوکول اور عمل درآمد کا طریقہ کار وضع کیاجائے۔دوسرا، اقوام متحدہ کی چھتری تلے یکجائی کا حامل، شفاف اور اجتماعی نظام تیار کیاجائے جو ناجائز دولت کے بہاﺅ اور لوٹے گئے اثاثوں کی واپسی کی نگرانی کے عالمی قانونی فریم ورک کو تقویت دے۔  تیسرا،  گلوبل بینیفیشل اونرشپ رجسٹری  قائم کی جائے۔چوتھا، کرپشن کی بنیاد پر  ہونے والے عدم مساوات پر مبنی سرمایہ کارانہ معاہدات پر نظرثانی اور ان کی ازسرنوتشکیل کی جائے۔حتمی شکل پانے کے بعد ان تجاویز کو  یو۔این۔سی۔اے۔سی  کانفرنس آف سٹیٹ پارٹیز میں غور کے لئے پیش کیاجاسکتا ہے۔

   وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ کہ کرپشن کے خاتمے کے لئے پاکستان کا عزم اور عہد واضح اور مضبوط ہے۔  اقوام متحدہ کے 2030 کے ایجنڈے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے کرپشن کے خلاف ہماری جنگ لازم ہے۔ ہمیں کمزور پہلوﺅں کے حل، قومی اور عالمی سطح پر کرپشن کے مواقعوں کی فراہمی کے تدارک کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ او آئی سی کے رکن ممالک، ماہرین تعلیم اور پریکٹیشنرز کا آج کا اجتماع بدعنوانی کی لعنت بالخصوص غیر قانونی مالیاتی بہاؤ کو روکنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے میں مدد کرے گا ،ہم  اس سیمینار کے نتیجہ میں اسلام آباد اعلامیہ کی شکل میں دستاویز کے منتظر ہیں۔