او آئی سی کے ہونے والے غیر معمولی اجلاس کا مقصد مسلمہ امہ کے درمیان یکجہتی اور اتحاد کو فروغ دینا ہے ؛وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

17

اسلام آباد،15مارچ  (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے بعد او آئی سی  دنیا کا دوسرا بڑا فورم ہے جو مسلم امہ کی نمائندگی کرتا ہے، او آئی سی کے اجلاس میں اسلاموفوبیا اور  بھارت میں حجاب پر پابندی کے مسئلے پر  بھی بات کی جائے گی، او آئی سی کے ہونے والے غیر معمولی اجلاس کا مقصد مسلمہ امہ کے درمیان یکجہتی اور اتحاد کو فروغ دینا ہے، انصاف کی متلاشی قوموں کےلئے اور دنیا بھر میں غاصبانہ قبضے خصوصا کشمیر اور فلسطین کے لئے امن کی آواز اٹھانا چاہتے ہیں۔

 منگل کو وزارت خارجہ میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 48ویں اجلاس کے حوالہ سے پریس کانفرنس سے  خطاب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ  اس ماہ ہونے والے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کا موضوع  شراکت داری برائے اتحاد، امن و انصاف ہے، اجلاس میں 100 کے قریب قراردادیں پیش ہونے کی توقع ہے جبکہ اس موقع پر  پر کشمیر رابطہ گروپ کا اجلاس بھی منعقد ہو گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ رابطہ گروپ کشمیر پر اپنی مرتب کردہ رپورٹ کو اس اجلاس میں پیش کرے ۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ  نے کہا کہ   او آئی سی  اجلاس میں اگر کوئی رکن ملک یمن جنگ کی مذمت میں قرارداد لانا چاہتا ہے تو اس کو روک نہیں سکتے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ اجلاس بہت نازک مرحلے پر ہو رہا ہے، اس  وقت کشمیری اور فلسطینی حق ارادیت کے حصول کے منتظر ہیں جبکہ دوسری طرف  اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز بیانیے میں اضافہ کا رحجان دکھائی دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس اجلاس کے زریعے مسلم امہ کے درمیان اتحاد اور یگانگت کا فروغ چاہتے ہیں۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی  نے کہا کہ ہمارے امہ کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں جس کی بنیاد پر ہم پل کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، ہماری خواہش ہو گی کہ وہ قومیں جو جبر و استبداد کا سامنا کر رہی ہیں، بالخصوص مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین انہیں انصاف مل سکے، اس اجلاس کا مقصد مسلم ملکوں کے مابین اتحاد و یکجہتی، معاشی ترقی علاقائی امن و استحکام کا فروغ اور فلسطین و مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو انصاف کی فراہمی ہے۔ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اڑتالیسویں اجلاس پر ابتدائی مشاورت کے بعد ہماری کوشش ہو گی کہ ایک سو سے زیادہ قراردادیں پیش اور منظور کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ دو معاملات پر او آئی سی نے نمایاں پوزیشن لے رکھی ہے جس میں فلسطین اور مسئلہ کشمیر شامل ہیں۔ہماری خواہش ہوگی کہ اس اجلاس میں جموں و کشمیر کے مسئلے پر ایک منسٹیریل قرارداد پیش کی جائے جو امہ کی آواز تصور ہو۔ ہماری خواہش ہے کہ اسلاموفوبیا ،کرپشن اور  کورونا وائرس کی وبا کے مضمرات سے نمٹنے کیلئے بھی ایک متفقہ قرارداد سامنے لائی جا سکے جبکہ افغانستان کی صورتحال کا جائزہ لینا بھی ہماری خواہش ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ اجلاس ہماری متفقہ اور مشترکہ امنگوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے لائحہ عمل مرتب کرے  اور امہ کے مابین اتحاد و  یگانگت کا پیغام اس اجلاس کے ذریعے دنیا بھر میں پہنچے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میں کل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کی صدر کو خط لکھا اور بھارتی میزائل کے پاکستانی حدود میں گرنے کے معاملے پر  پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کو آگاہ کیا کہ  بھارت نے غلطی سے میزائل چلنے کی کوئی اطلاع نہیں دی اور  پاکستان کے وضاحت طلب کرنے کے بعد ذمہ داری قبول کی ہے۔ بھارتی جواب کو مسترد کرتے ہیں۔ میزائل کے  حادثاتی طور پر  چلنے سے دو ایٹمی طاقتوں میں جنگ چھڑ سکتی تھی، بھارت کی یک طرفہ تحقیقات ناکافی ہیں۔انہوں  نے کہا کہ میں نے عالمی برادری کو اس واقعہ کی سنگینی سے آگاہ کیا ہے جبکہ اس خط میں، میں نے کچھ سوالات اٹھائے ہیں۔ میزائل کے حادثاتی طور پر چل جانے سے بچاو کے لئے لاگو اقدامات اور طریقہ ہائے کار اور بالخصوص اس حادثے کے عوامل کے بارے میں بھارت واضح کرے۔  پاکستان میں گرنے والے میزائل کی قسم اور اس کی جزئیات   بارے بھارت واضح طور پر بتائے، بھارت  وضاحت کرے کہ حادثاتی طورپر چل جانے والے میزائل کی پرواز کا راستہ کیا تھا اور آخر کار یہ رْخ بدل کر پاکستان میں کیسے داخل ہوا؟، کیا میزائل کے اندرخود کار تباہ ہونے کا نظام موجود تھا ؟ اور یہ کیوں کام کرنے میں ناکام رہا؟، کیا معمول کی دیکھ بھال کے دوران بھارتی میزائلوں کو چلنے کی فوری حالت میں رکھا جاتا ہے؟، حادثاتی طور پر میزائل چلنے کے فوری بعد بھارت پاکستان کو اس وقت تک مطلع کرنے میں کیوں ناکام رہا جب تک پاکستان نے حادثے کا اعلان نہیں کر دیا ۔

 یوکرین روس جنگ کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان روز اول سے ہی  کہہ رہا ہے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے ہمیں ڈائیلاگ اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ  دیرپا حل پابندیوں سے نہیں سفارت کاری سے ممکن ہے۔پاکستان امن کا خواہاں ہیں،ہم چاہتے ہیں کہ نفرتوں میں کمی آئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو احساس ہے کہ یو این چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کیا اہمیت ہے  او پاکستان نے ہمیشہ خودمختاری کے نظریے کی پاسداری کی ہے۔

 ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کثیر جانی و مالی نقصان برداشت کیا ہے۔ ہم نے دہشت گردی میں بھارت کی پشت پناہی کو ثبوتوں کے ساتھ ڈوزیئر کے ذریعے دنیا کے سامنے رکھا ہے، ہمارے جارحانہ عزائم   تھے اور نہ ہیں لیکن ہم اپنے دفاع سے غافل نہیں ہیں،جے 10 سی  ملکی دفاع کے حوالے سے ایک اہم اضافہ ہے۔ پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے تاہم امن کی ہماری خواہش عزم صمیم اور اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت کے ساتھ منسلک ہے جسے ہم اقوام متحدہ کے منشور کے تحت اپنے حقوق کے مطابق استعمال کریں گے۔

وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کو اپنے خط میں کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن واستحکام کو لاحق خطرات سے بچاو میں عالمی برادری اہم کردار کی حامل ہے۔ وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری بھارت کے غیرذمہ دارانہ رویے اور خطے میں امن واستحکام سے قطعی لاتعلقی پر آنکھیں کھولے۔میزائل حادثہ بھارتی غیرذمہ دارانہ رویے اور طرزعمل کا تسلسل ہے جو خطرے اور اس کی فوری نوعیت کے احساس کے ساتھ عالمی برادری بالخصوص سلامتی کونسل کی طرف سے توجہ دئیے جانے کا متقاضی ومستحق ہے۔پاکستان سلامتی کونسل پر زور دیتا ہے کہ بھارت حکومت سے مطالبہ کرے کہ (اے) میزائل حادثے پر پاکستان کے ساتھ مشترکہ تحقیقات کرے تاکہ حادثہ سے متعلقہ تمام حقائق کا پتہ چلے،  (بی) مزید اقدامات سے باز رہے جن سے علاقائی امن وسلامتی خطرے سے دوچار ہو، (سی) بھارتی ہتھیاروں کے سسٹمز کی سلامتی وحفاظت اور اپنے کمانڈ اینڈ کنٹرول  سسٹم کی ساکھ کے بارے میں پاکستان اور عالمی برادری کی یقین دہانی کے لئے اقدامات کرے۔

 ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس  ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں جمع کرائی جا چکی ہے۔یہ ایک آئینی معاملہ ہے  اور اپوزیشن کا آئینی حق ہے۔ ہم آئین کو مد نظر رکھتے ہوئے سیاسی اور جمہوری انداز میں اس کا سامنا کریں گے۔مجھے یقین ہے کہ ان  شاء اللہ یہ تحریک چائے کی پیالی میں طوفان ثابت ہو گی اور ناکامی سے دوچار  ہوگی۔ تاہم میں اپوزیشن  ارکان سے اپیل کر تا ہوں کہ پرامن لانگ مارچ کرنا ان کا حق ہے ماضی میں بھی لانگ مارچ ہو چکا ہے۔ ہم سیاسی  لوگ ہیں اور سیاسی انداز میں اس سے نبرد آزما ہوں گے تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی میرے علم  میں ہے کہ اسلام آباد میں  بھارتی ہائی کمیشن اور بھارتی سفارتکار اس اہم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کے لئے   دن رات کام کر رہے ہیں اور غیر یقینی صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں  کیونکہ ان کو علم ہے کہ پاکستان اجلاس میں مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کرے گا، کسی  کو ان کے منصوبوں میں  آلہ کار نہیں بننا چاہئے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 22 اور 23 مارچ کو اجلاس خوش اسلوبی سے ہونےدیں ، اس کے بعد وہ جو کرنا چاہتے ہیں کریں، ہم ان کا خیرمقدم کریں گے۔