پشاور، 08مارچ (اے پی پی): صوبائی وزیر قانون فضل شکور خان نے نیشنل لاجسٹک سیل اور پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کے عہدیداران کو ہدایت جاری کی ہے کہ خیالی پل، مچنی پل، مترا پل اور کبابیان پل کے ترقیاتی کاموں کو عوامی مفادات کے لیے جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان پلوں پر جاری کام کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے اور ترقیاتی کام کو مزید تیز کروایا جائے۔
ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر قانون فضل شکور خان نے نیشنل لاجسٹک سیل کے ہیڈ آفس پشاور کے دورے کے موقع پر ترقیاتی کاموں کے حوالے سے منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس میں صوبائی وزیر قانون کو خیالی پل، مچنی پل، مترا پل، کبابیان پل اور دیگر ترقیاتی سکیموں پر جامعہ بریفنگ دی گئی۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر نیشنل لاجسٹک سیل ندیم احمد نے تمام اسکیموں کی بنیادی ضروریات اور فنڈنگ سے آگاہ کیا۔
فضل شکور خان نے ہدایت جاری کی کہ پختونخواہ ہائی ویز اتھارٹی اور نیشنل لاجسٹک سیل مشترکہ طور پر عوامی مفادات کے لیے شروع کیے گئے منصوبوں کو اپنے اپنے ٹائم فریم میں مکمل کروائے اور ان چاروں پلوں کا بنیادی کام جون 2022ء تک مکمل کروایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ترقیاتی کاموں میں اعلیٰ کوالٹی کے میٹریل کے استعمال کو یقینی بنایا جائے اور تمام دوغلی پالیسیوں سے بچا جائے تاکہ عوامی مفادات کے لیے جاری کیے گئے پیسوں کا صحیح استعمال عمل میں لایا جا سکے۔
وزیر قانون نے کہا کہ ان پلوں کی تعمیر سے عوام کو درپیش سفری مسائل پر کافی حد تک قابو پالیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کا یہ سفر اسی طرح جاری رہے گا اور صوبائی حکومت حقیقی معنوں میں عوامی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے جس کے لئے کئی اہم اور بڑے ترقیاتی منصوبے جاری کیے گئے ہیں تاکہ ان کی تکمیل سے عوام کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر نیشنل لاجسٹک سیل ندیم احمد، ایس پی ایم نیشنل لاجسٹک سیل آصف ابرار، ڈائریکٹر پختونخواہ ہائی ویز اتھارٹی اعجاز احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر پختونخواہ ہائی وے اتھارٹی عثمان شنواری اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔











