فیصل آباد، 24 اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ ہماری پوری کوشش تھی کہ جمہوری نظام چلتا رہے اور عمرانی حکومت نے عوام سے جو وعدے کئے ہیں وہ انہیں پورا کرکے دکھائیں لیکن جس تیزی سے ملک معاشی و سیاسی بحران کی طرف جارہا تھا اور مہنگائی عوام کی کمر توڑ رہی تھی ان حالات میں ضروری ہوگیا تھا کہ جتنی جلدی ممکن ہوسکے عمرانی حکومت سے چھٹکارا پالیا جائے لیکن پھر بھی شہباز شریف نے عمران خان کو میثاق معیشت کی پیشکش کی مگر انہوں نے اس پر کان نہ دھرے اور رعونت، تکبر و فرعونیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی کی مثبت بات پرتوجہ نہ دی لہٰذاہم نے مجبوراً اتحادیوں کی مدد سے ان کی حکومت کو گرایااور بعدازاں جمہوری طریقے سے ہی ایوان کے ذریعے عدم اعتماد لاکراتحادیوں کے ووٹ سے شہباز شریف وزیر اعظم بنے مگرہم نے پی ٹی آئی منحرف ارکان کو کوئی آفر نہیں دی نہ انہیں کوئی روپیہ پیسہ دیا اور نہ ہی کہیں ان کا ووٹ استعمال کیا۔
وہ اتوار کی رات گئے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ممبر صوبائی اسمبلی فیصل آبادظفر اقبال ناگرہ کی طرف سے اسماعیل مسجد روڈ فیصل آباد پرواقع کوہ طور مارکی میں اپنے اعزاز میں دی گئی عظیم الشان استقبالیہ تقریب سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے عوامی خدمت اور لوگوں سے کئے گئے اپنے انتخابی وعدے پورے کرنے کی بجائے لوگوں سے انتقام لیا اور جھوٹے مقدمات بنائے یہی نہیں بلکہ عمران خان کے مشیر احتساب شہزاداکبرجو بعد میں خود بھی استعفیٰ دیکر بھاگ گئے روز پریس کانفرنس کرتے اور اپوزیشن جماعتوں کے قائدین پر نت نئے الزامات لگاتے لیکن وہ چار سال میں ایک بھی الزام ثابت نہیں کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ تمام حکومتی ایجنسیوں کو حکم دیا گیا کہ جیسے بھی ممکن ہو شہباز شریف کے خلاف کرپشن کے ثبوت ڈھونڈیں مگرنیشنل کرائم ایجنسی نے کہاکہ شہباز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ ان کے خلاف مقدمے کے احکامات وزیر اعظم ہاؤس سے دیئے گئے اور ان سمیت جن لوگوں کوسیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے جیلوں میں بند کیاگیا، ان کا کھانا بھی بند کردیا گیاحتیٰ کہ انہیں جیل میں بند کرکے 15 دن میڈیسن نہیں دی گئی اورجب کچھ نہ ملا تو گودام سے 15 کلو ہیروئن نکال کر ان کے اوپر ڈال دی گئی اسی طرح دیگر قائدین کے خلاف بھی جھوٹ کی بنیاد پر مقدمات درج کئے گئے جن کے خلاف آج تک نہ تو کوئی ثبوت ملا نہ ہی کوئی الزام ثابت ہوسکا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پنڈی کا شیطان ہاتھ مار مار کر کہتا تھاکہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد ناکام ہوگی لیکن اب وہ کہتا ہے کہ لوگوں کو خرید لیا گیا حالانکہ ایسا بالکل نہیں اور وہ حلف اٹھا کر کہتے ہیں کہ کسی پی ٹی آئی کے بندے کو ایک روپیہ نہیں دیاگیا بلکہ اپوزیشن کا ساتھ انہوں نے خود ملک و قوم کو مزید تباہی و بربادی سے بچانے کیلئے دیا ہے ،عدم اعتماد میں کسی بھی پی ٹی آئی منحرف یا باغی رکن کا ووٹ شامل نہیں کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ جب یہ لوگ تمہارے ساتھ تھے تب ٹھیک تھے اور جب چھوڑا تو غلط ہوگئے۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ ایم کیو ایم نے بتایا کہ انہوں نے چار سال کچھ نہیں کیاجس پر انہوں نے اپنی راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کیا اور جب ان کاایم کیو ایم کے ساتھ معاہدہ طے پایا تو گورنرعمران اسماعیل منتیں کرنے لگ گئے لیکن اس وقت تک پانی سر سے گزر چکا تھا۔انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے خواتین کو بھی نہیں بخشا اور مریم نواز کے خلاف نہ صرف جھوٹا مقدمہ بنایا بلکہ انہیں پابند سلاسل بھی کیا گیا یہی نہیں بلکہ جن خواتین کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا ان کے خلاف بھی مقدمات بنائے اورجھوٹے مقدمات بناکر مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ وہ وثوق سے کہتے ہیں کہ ان کے خلاف مقدمے کے آرڈرز وزیر اعظم ہاؤس سے دیئے گئے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید کی ڈونلڈ لو کے ساتھ ملاقات ہوئی لیکن اس میں ڈونلڈ لو نے کوئی چیز اسد مجید کو نہیں دی اسی لئے ایجنسیوں کے سربراہان نے کہا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی جبکہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید نے قومی سلامتی کمیٹی میں سب کے سامنے اعتراف کیا کہ ان کے خط میں سازش یا عدم اعتماد کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ اپنی سیاسی موت سے بچنے کیلئے خط کے الفاظ کواس وقت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنی نگرانی میں تبدیل کروایا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کسی رکن کو پیسوں تک کی آفر نہیں کی لیکن عمرانی کرپٹ ٹولے کو جتنی جلدی ہٹادیا جا تا اتنا ہی بہتر تھا۔
انہوں نے کہا کہ انسان کی اتنی طاقت نہیں کہ وہ کہے کہ میں فلاں کو نہیں چھوڑوں گا۔انہوں نے کہا کہ عمرانی حکومت کے دور میں کرپشن کی انتہا کردی گئی اورادویات سکینڈل میں کراچی کے گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر پانچ کروڑ لیا گیاجس کے ساتھ ہی ادویات مہنگی کردی گئیں۔انہوں نے کہا کہ عمران حکومت نے جو جو وعدے کئے اس کے برعکس کیا،کشمیر کو مودی کی جھولی میں ڈال دیا، خارجہ تعلقات کا بیڑا غرق کیا،نوجوانوں کوایک کروڑ نوکریوں اور50 لاکھ گھروں کا جھوٹا وعدہ کیا گیا اوریہ لوگ کہتے تھے کہ مہنگائی ہو تو وزیر اعظم کرپٹ ہوتا ہے مگر خودپی ٹی آئی حکومت نے تاریخی مہنگائی کی،اسی طرح یہ لوگ کہتے تھے کہ مہنگائی 30 دنوں میں کم کردیں گے مگر اس کے بعد ہر چیز 6 فیصد مہنگی کردی گئی۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کی خدمت کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ جلسے کرنیوالے کا وقت آنے پر علاج ہوگا اور اگر عمران خان نے اسلام آباد کا رخ کیا تو وہ اس کا استقبال کریں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان نے کہا کہ یہ لوگ اپنے چار سالہ دور حکومت میں مخالفین کو چور ڈاکوکہتے، ان کی کردار کشی اور بے بنیاد پراپیگنڈہ کرتے رہے مگر ایک بھی الزام ثابت نہ کیا جا سکا۔انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے نااہل اور نالائق ٹولہ سے عوام کی جان چھوٹ چکی ہے لہٰذا اب انتقامی سیاست کی بجائے عوام کو بھر پور ریلیف کی فراہمی کا سلسلہ شروع کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نا اہل اور نالائق سابقہ حکومتی ٹولہ سے پاکستانی قوم کی جان چھوٹ چکی ہے جنہوں نے عوام کی خدمت کی بجائے انتقامی سیاست کی اور غریب عوام کو ریلیف کی بجائے تکلیف ہی دی۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ سی پیک کی بنیاد میاں نوازشریف نے رکھی مگر نا اہلوں نے اپنی نالائقی کی وجہ سے ساڑھے تین سال تک اسے عملی طور پر بند رکھا جبکہ نوجوانوں کوایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر دینے والے دعوے اور وعدے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائدین اور وزیر اعظم میاں محمد شہبازشریف کی قیادت میں انشا اللہ پاکستان ترقی کرے گااور ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پچھلے دور میں نالائق حکمرانوں نے ملک کو بربادی کے دھانے پر لاکھڑا کیاجن کی کوئی اقتصادی یا معاشی پالیسی نہیں تھی،چیزیں مہنگی بکتی رہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہ تھا، صبح کو اشیا کے ریٹ کچھ اور جبکہ شام کو کچھ اور ہوتے تھے لیکن ملک بھر میں بالعموم جبکہ پنجاب بھر میں با لخصوص گورننس نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ پچھلے چار سال سے مسلط ٹولے نے گورننس و خدمت کی بجائے انتقام پر توجہ مرکوز رکھی اور عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا لیکن اب ہم اس کا ازالہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کی خدمت ہی ان کا عظیم سرمایہ ہے کیونکہ جو عزت و محبت عوام نے مشکل وقت میں انہیں دی وہ اسے زندگی بھر فراموش نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ ماضی کی طرح حال اور مستقبل میں بھی آپ کی خدمت کا مشن جاری رکھا جائیگا۔
اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی ظفر اقبال ناگرہ نے کہا کہ ہم پہلے بھی اپنے قائدین کے ساتھ تھے اور اب بھی سیسہ پلائی دیوار بن کر ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی بلا امتیاز شہریوں کی خدمت کی اور آئندہ بھی بے لوث ہوکر ان کی خدمت کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں عوام کے مینڈیٹ سے فیصل آباد سے مسلم لیگ ن کلین سویپ کرے گی۔
اس موقع پر مسلم لیگ ن کے کئی دیگر ارکان اسمبلی، پارٹی عہدیداران، قائدین و کارکنان بھی بہت بڑی تعداد میں موجود تھے۔











