ملک کو اس وقت معیشت سے بڑا خطرہ پولرائزیشن ہےم، وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کی لاہور میں میڈیا سے گفتگو

1

لاہور 21 مئی ( اے پی پی ): وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ گزشتہ چار سالوں میں سی پیک کے گیٹ وے  گوادر کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیابندرگاہ پر  پر کام نا ہونے کی وجہ سے اس کی گہرائی 18 میٹر سے کم ہو کر 11 میٹر رہ گئی ہے جس کی وجہ سے اب کوئی بڑا جہاز لنگر انداز نہیں ہو سکتا چھوٹی چھوٹی لانچوں کے طرز کے جہاز ہی وہاں لنگر انداز ہو رہے ہیں یہ سی پیک کے خلاف مجرمانہ غفلت تھی ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک اور گوادر کو اس لیے نظر انداز کیا گیا کہ سابقہ وفاقی حکومت پرچون  کی سطح سکیموں پر توجہ دے رہی تھی بڑے منصوبوں کے لیے فنڈز ہی دستیاب نہیں تھے اب ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ترقیاتی بجٹ کی صفائی کریں اور کلیدی شعبوں کو فنڈز کی فراہمی یقینی بنائیں ۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی ملک سیاسی بے یقینی کے ساتھ ترقی نہیں کر سکتا پاکستان کی ترقی کے لیے سب سے اہم شعبہ ہماری یونیورسٹیز ،ریسرچ کے شعبے اور طالب علموں کی تعلیم و تربیت ہے اس لیے اگلے ترقیاتی بجٹ کے اندر ان شعبوں کے لیے زیادہ  فنڈز مختص کریں گے تاکہ اپنے مستقبل کو محفوظ کر سکیں اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے اندر سیاسی بے یقینی کو ختم کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ بحیثیت قوم ہم پاکستان کی 75 ویں یوم آزادی منانے جا رہے ہیں ہم نے پاکستان کے یہ سال تجربات میں  ضائع کر دیے ہیں بنگلہ دیش اور بھارت ہم سے آگے نکل چکے ہیں اب  ضرورت اس امر کی ہے کہ اگلے پچیس سال  بعد نوجوانوں کو  ایسا ملک دے کر جائیں کہ جس پر وہ فخر کر سکیں ۔