وسط اپریل سے لے کر اب تک پاکستان میں اوسط درجہ حرارت گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ہے ؛ وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر کی پریس کانفرنس

14

اسلام آباد،8جون  (اے پی پی):وفاقی وزیر  توانائی  خرم دستگیر نے کہا ہے کہ صنعتوں کو 24 گھنٹے بجلی فراہم کر رہے ہیں، وسط اپریل سے لے کر اب تک  پاکستان میں اوسط درجہ حرارت گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ہے،بجلی کی بچت کےلئے  ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔

   ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر بجلی نے کہا کہ بجلی کی مجموعی پیداوار 22010 میگاواٹ اور طلب 26 ہزار 227 میگاواٹ ہے، بجلی کا شارٹ فال 4 ہزار 127 میگاواٹ ہے، 84 فیصد فیڈرز پر چار گھنٹے سے کم لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، صنعتی شعبہ کو بلاتعطل بجلی فراہم کی جا رہی ہے، کوشش ہے کہ 2 سے 3 ہفتوں میں بجلی کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کریں، کوئلہ کی کمی دور کرنے کا انتظام ایک ہفتہ پہلے ہی کر لیا تھا، 15 جون سے کوئلہ کے پیداواری پلانٹ سے 600 میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی جس سے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مزید آدھا گھنٹہ کم ہو جائے گا، کے ٹو پاور پلانٹ پر ری فیولنگ ہو رہی ہے۔انہوں  نے   کہا کہ  رواں ماہ کے آخر تک ری فیولنگ سے کے ٹو اپنی مکمل استعداد 1100 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا جس سے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مزید ایک گھنٹہ کم ہو جائے گا جبکہ کوئلہ سے بجلی کی مکمل پیداوار رواں ماہ کے آخر تک شروع ہو جائے گی اور جولائی کے شروع میں لوڈ شیڈنگ میں نمایاں کمی آ جائے گی۔

 وفاقی وزیر  توانائی  خرم دستگیر نے کہا کہ کیروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو فروری 2022ء میں مکمل ہونا تھا، اس پر 2016ء میں کام شروع ہوا تھا اس سے 720 میگاواٹ کی پیداوار سے جتنی بھی زیادہ سے زیادہ بجلی حاصل ہو سکتی ہے، حاصل کریں، کیروٹ ہائیڈرو پاور پلانٹ کو فعال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدھ کو پن بجلی کی پیداوار 3396 میگاواٹ تھی جسے 4500 میگاواٹ ہونا چاہئے تھا جبکہ ہماری پن بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت ساڑھے 8 ہزار میگاواٹ ہے، پانی کی کم آمد کی وجہ سے ہائیڈل بجلی کی پیداوار کم ہے، تریموں پاور پلانٹ چوتھا آر ایل این جی پاور پلانٹ ہے جسے تین سال پہلے مکمل ہو جانا چاہئے تھا اس پر بھی کام تیز کر دیا گیا ہے اور رواں سال وہ اپنا کمرشل آپریشن شروع کر دے گا، تھر میں شنگھائی الیکٹرک کول پاور پلانٹ کا 1200 میگاواٹ کا پلانٹ پچھلی حکومت نے نظر انداز کیا اس کیلئے بھی مذاکرات ہو رہے ہیں تاکہ اس سے جلدی پیداوار شروع ہو جائے اور نہ صرف رواں موسم گرما میں عوام کو ریلیف دے سکیں بلکہ آئندہ موسم گرما کیلئے بھی تیاری کی جا سکے۔

 وفاقی وزیر  توانائی  خرم دستگیر نے کہا کہ اپریل سے اب تک اوسط درجہ حرارت میں 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، موسم کی شدت کی وجہ سے بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، گذشتہ سال کے مقابلہ میں رواں سال زیادہ بجلی پیدا ہو رہی ہے لیکن طلب بڑھنے کی وجہ سے شارٹ فال ہے، بجلی کی بچت کے حوالہ سے بھی حکومت نے پلان مرتب کیا ہے، ایندھن بند پاور پلانٹس کو چلانے اور بجلی کی بچت کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، دکانیں شام کو جلد بند کرنے کا بھی پلان ہے، اس کے علاوہ ہفتہ کی تعطیل اور ایک دن 20 فیصد ملازمین کے ورک فرام ہوم کی تجویز ہے تاکہ بجلی کی کھپت کم ہو اور مہنگے ایندھن کی بھی بچت ہو۔