اسلام آباد،26اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ قطرپاکستان میں تین ارب ڈالر اوریواے ای 2 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرے گا۔
جمعہ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ قطر نے پاکستان میں تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی منظوری دی ہے ، پاکستان میں عنقریب بڑی سرمایہ کاری ہونے جارہی ہے ۔ قطر پاکستان کی ائیر پورٹس کو طویل المعیاد لیز پرلینے کاخواہش مندہے، اس کے علاوہ وہ بندرگاہوں میں بھی سرمایہ کاری کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ قطر نے ایل این جی پاور پلانٹس اورپاکستان سٹاک مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔توانائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت کا 8 ہزار میگا واٹ سولر پلانٹس لگانے کا ارادہ ہے، قطر نے 8 ہزار میگاواٹ سولر پلانٹس لگانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ سوموار کو آئی ایم ایف کے انتظامی بورڈ کا اجلاس ہو رہا ہے،حکومت نے چار ارب ڈالر کی فنانسنگ گیپ کو پورا کر لیا ہے، یو اے ای نے پاکستان میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیاہے ۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ شرح مبادلہ فکس کرنے سے متعلق کوئی وعدہ نہیں ہوا۔انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کی جانب سے بھی موخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت ملے گی، مارچ اور اپریل میں تیل کے مہنگے سودوں کے باعث بجلی مہنگی پیدا ہوئی تھی۔
وزیر خزانہ نے نیویارک میں پی آئی اے کے ملکیتی روزویلٹ ہوٹل کو بیچنے کی افواہوں کومسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔
حالیہ بارشوں اورسیلاب کا ذکرکرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ سیلاب سے بہت زیادہ نقصان ہوا ہے، اس وقت ریلیف کا کام ہورہا ہے بحالی کا کام بعد میں ہوگا، ابھی تعمیر نو و بحالی کے لیے لاگت کا اندازہ لگانا مشکل ہے، چالیس سے پچاس ارب روپے کا صرف لائیو اسٹاک کا نقصان ہوا ہے جب کہ جائیداد کا نقصان اربوں میں ہے ۔ سیلاب متاثرین کیلئے عالمی بنک نے فوری طور پر 37 کروڑ ڈالر جاری کرنے کا کہا ہے،سیلاب زدگان کی مدد کیلئے وزارت خزانہ نے 28 ارب دئیے ہیں، سیلاب زدگان کی مدد کیلئے ڈونرز سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔
دو سو یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی پر سبسڈی دینے کے معاملے پر وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آئی ایم ایف ہم سے پوچھتا ہے کہ سبسڈی کس کو دے رہے ہیں؟ دو سو یونٹ والوں کو سبسڈی دینے کا جواز بنتا ہے، وزیر اعظم نے ان صارفین کو بھی ریلیف دینے کا کہا ہے ،وزیراعظم بجلی بلوں میں اضافے پر بہت فکر مند ہیں۔ ہم نے چھپن فیصد صارفین کو فیول ایڈجسمنٹ چارجز پر ریلیف دیا ہے، دو سو یونٹ سے کم صارفین کو نئے بل جاری کئے جائیں گے، دو سو سے تین سو یونٹ والوں کے لیے سبسڈی پر 13 ارب روپے لاگت آئے گی تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ۔ دو سو سے تین سو یونٹ والے صارفین کیلئے کمیٹی بنائی گئی ہے۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ ٹیوب ویل چلانے والے کسانوں سے ایف سی اے نہیں لیا جائے گا تاہم صاحب حیثیت صارفین سے ایف سی اے چارج کیا جائے گا ۔











