وزیراعظم محمد شہباز کا 2 روزہ دورہ قطر کا پہلا دن، سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

23

اسلام آباد، 23 اگست (اے پی پی ): وزیرِاعظم شہباز شریف قطر کے 2 روزہ سرکاری دورے کے پہلے  دن  دوحہ پہنچنے پر قطر کے وزیر ٹرانسپورٹ  جاسم سیف السلیطیی نے دوحہ کے ہوائی  اڈے پر وزیراعظم کا استقبال کیا۔وزیرِ اعظم امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی دعوت پر قطر کا دورہ کر رہے ہیں، وزارتِ عظمی سنبھالنے کے بعد وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کا یہ پہلا دورہء قطر ہے۔

دورے کے پہلے روز وزیراعظم محمد شہباز شریف سے قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کے  سی ای او منصور محمود نے ملاقات کی، ملاقات میں پاکستان  میں فوڈ سکیورٹی ، ہوا بازی ، میری ٹائم، توانائی ، سیاحت اور پیٹرولیم کے شعبوں میں قطری سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت ہوئی ۔

وزیراعظم محمد شہبازشریف سے  قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی (کیو آئی اے) کے وفد نے  ملاقات کی۔کیو آئی اے کے سی ای او منصور بن ابراہیم المحمود اور چیف انویسٹمنٹ آفیسر آف افریقہ اور ایشیا پیسیفک ریجنز شیخ فیصل تھانی الثانی نے قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کی نمائندگی کی۔ قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی دنیا کے سب سے بڑے خودمختار دولت فنڈز میں سے ایک ہے۔ دو روزہ سرکاری دورے پر دوحہ پہنچنے کے فوراً بعد وزیراعظم کی یہ پہلی مصروفیت تھی

وزیراعظم نے دوطرفہ اقتصادی اور سرمایہ کاری، قابل تجدید توانائی بشمول شمسی اور ہوا سے بجلی کی پیداوار میں تعاون بڑھانے پر زور دیا اور کہا کہ ہوا بازی، سمندری، صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مہمان نوازی کے شعبوں میں  تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت  ہے ۔

 وزیراعظم نے قطرکو پاکستان کے توانائی، ہوا بازی، زراعت اور لائیو سٹاک، میری ٹائم، سیاحت اور  مہمان نوازی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دوحہ میں پاکستان-قطر سرمایہ کاری کانفرنس سے بھی  خطاب کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ قطر کے ساتھ قریبی اور برادرانہ تعلقات ہیں، دونوں ممالک میں تجارت و سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔پاکستان میں زراعت، قابل تجدید توانائی اور آئی ٹی سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔انہوں  نے قطر کے سرمایہ کاروں کو ہائیڈل توانائی کے شعبہ میں منافع بخش سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے افغانستان امن عمل میں قطر کے کردار کو سراہا۔ انہوں  نے کہا کہ پاکستان اور قطر کو باہمی تجارت کی نئی بلندیوں ہر پہنچانے کی ضرورت ہے۔