اسلام آباد،17ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم ( ایس سی او ) کے اجلاس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کو بھرپور پذیرائی ملی، اس موقع دس سربراہان مملکت سے ملاقاتیں ہوئیں، صدر پیوٹن نے روس یوکرین تنازعہ پر پاکستان کے نقطہ نظر کو سراہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ہفتہ کو یہاں وزیراعظم محمد شہباز شریف کے ایس سی او سربراہان مملکت کے اجلاس میں شرکت کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران پاکستانی قیادت اور وفد کی غیر رسمی ملاقاتیں ہوئیں ، تنظیم کے رکن ممالک نے سیلاب کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مدد کا عندیہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے اجلاس کے موقع پر چین، روس، ایران اور ترکیہ کے صدر کے ساتھ اہم ملاقاتیں ہوئیں جن میں تمام ممالک کی قیادت نے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے وزیراعظم کو دورہ چین کی دعوت دی ہے، نومبر کے پہلے ہفتے میں چین کا دورہ کریں گے جبکہ روس کے صدر نے بھی وزیراعظم کو روس کے دورہ کی دعوت دی ہے جن کی تاریخوں کا تعین کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر ایک بات بڑی واضح ہوئی ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی فضا کے خاتمہ کی ضرورت ہے کیونکہ سیاسی عدم استحکام سے ملک کی مدد کرنے والے ممالک متاثر ہوتے ہیں۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ جب ہم آئے تو ملک کے حالات مخدوش تھے جو بہتر ہو رہے ہیں، حالات بہتر ہوں گے تو مہنگائی اور قیمتوں میں بھی کمی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے دورہ سمر قند کے دوران تمام ممالک کے سربراہوں نے مسلم لیگ نواز کے سربراہ کے ساتھ ملاقاتوں کو یاد کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنے دورہ حکومت میں علاقائی تعاون کے فروغ کیلئے جامع اقدامات کئے تھے جن کو وزیراعظم محمد شہباز شریف آگے بڑھا رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ چینی صدر نے ایس سی او سے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم وزیراعظم کو ایک بہترین کام کرنے والا انتھک رہنما کے طور پر جانتے ہیں۔ انہوں نے ریلوے لائن ، سی پیک کے مختلف منصوبوں اور خطے میں سڑکوں کی تعمیر اور باہمی رابطوں کے فروغ پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ ہم ہر موسم میں پاکستان کے دوست ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان مشکلات سے نکلے اور استحکام آئے۔انہوں نے کہا کہ چین کے صدر نے غیر مشروط طور پر ہر طرح کی مدد اور حمایت کا عندیہ بھی دیا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنی ملاقاتوں اور گفتگو میں واضح کیا کہ عالمی سطح پر اوزون کے متاثر ہونے سے موسمیاتی مشکلات پیدا ہوئی ہیں جن سے پاکستان شدید متاثر ہو رہا ہے اور ہم دعا کرتے ہیں کہ کوئی اور ملک متاثر نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ آنے والے وقتوں میں فصلوں کے تباہ ہونے کی وجہ سے غذائی تحفظ کے حوالے سے مشکلات پیش آ سکتی ہیں جس کیلئے عالمی ، علاقائی اور ہمسایہ برادری کی مدد کی ضرورت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک نے پاکستان کے ساتھ دوبارہ اپنے پروگرام شروع کردیئے ہیں جبکہ سیلاب کی صورتحال میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ہمارے ترجمان بنے ہوئے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم سمر قند سے واپسی پر سیلاب زدہ علاقوں کے دورہ پر ہیں جس کے بعد وہ ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات میں شرکت کیلئے برطانیہ جائیں گی جہاں سے وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک روانہ ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر بحث جاری ہے کہ قوم کو اس وقت جتنی اتحاد اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے ماضی میں نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی بارشیں جاری ہیں ، کروڑوں لوگ کھلے آسمان کے نیچے پڑے ہیں جن کے پاس کھانا اور کپڑے نہیں ، ملک کی 22 کروڑ عوام کو سیلاب زدگان کی بحالی اور مدد کیلئے متحد ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
خواجہ محمد آصف نے کہاکہ صدر پیوٹن نے روس یوکرین تنازعہ پر پاکستان کے نقطہ نظر کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پہلی مرتبہ کسی عالمی پلیٹ فارم پر شرکت کیلئے گئے اور اس موقع پر جتنی پذیرائی ہوئی اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اور عوام کے مفاد اور فلاح وبہبود کیلئے ذاتی مفادات اور انا آڑے نہیں آ سکتی۔ وزیراعظم شہباز شریف جب قائد حزب اختلاف تھے تو اس وقت بھی انہوں نے اسمبلی میں میثاق معیشت کی دعوت دی تھی جو رد کردی گئی، آج بھی معیشت پر بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ سیاست کے وقت میں سیاست ہوگی، جب انتخابات ہوں گے اور میدان سجے گا تو سیاست بھی ہوگی لیکن میثاق معیشت کیلئے ہم آج بھی تیار ہیں، سیاست کو ایک طرف رکھ کر بات ہو سکتی ہے۔
آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ آئین میں جو طریقہ کار درج ہے اس کے مطابق جو موجودہ وزیراعظم ہوگا وہ آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ کرے گا۔ شہباز شریف نومبر میں اس کا فیصلہ کریں گے، نواز شریف نے چار مرتبہ یہ آئینی فریضہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی یہ درخواست ہے کہ اس معاملے کو موضوع بحث نہیں بنانا چاہئے جس طرح میڈیا میں یہ معاملہ موضوع بحث بنا ہوا ایسا کبھی نہیں ہوا،ادارے کی روایت اور تقدس اس بات کی متقاضی ہے کہ اس کو موضوع نہ بنایا جائے، یہ آئینی فریضہ ہے اور وقت پر نبھایا جاسکتا ہے۔











