اسلام آباد،14ستمبر (اے پی پی):بین الپارلیمانی یونین ایشیا پیسفک ریجن سیمینار کے دوسرے اور آخری دن 3 پلینری سیشنز منعقد ہوئے جن کی صدارت پائیدار ترقیاتی اہداف کے لئے قائم پارلیمانی ٹاسک فورس کی چیئر پرسن رومینہ خورشیدعالم نے کی۔ پہلے پلینری سیشن میں گزشتہ روز کی ہونے والی کارروائی کا تفصیلی جائزہ لیاگیا اور تمام ایشیائی ممالک کے مندوبین کی آرا کی روشنی میں سیمینارکے اعلامیے میں شامل کرنے کے لئے امورکا جائزہ لیاگیا ، اسی طرح پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے پارلیمنٹری میکنزم اور پریکٹسز کو انسٹیٹیوشنلائزڈ کرنے کا تفصیلی جائزہ لیاگیا۔
کنوینر پارلیمانی ٹاسک فورس رومینہ خورشیدعالم نے مندوبین کو سیمینار کے پہلے دن کی کارروائی کا خلاصہ پیش کیا، پائیدارترقیاتی اہداف کے حصول کے حوالے سے پارلیمنٹری میکنزم اور پریکٹسز کو انسٹیٹیوشنلائزڈبنانے کے حوالے سے سیشن میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی۔ بچوں کے حقوق اور کم عمری کی شادی کے حوالے سے پاکستان کی پارلیمنٹ میں کی جانے والی قانون سازی کے حوالے سے مندوبین کو آگاہ کیاگیا۔
آئی پی یو کے پروگرام منیجر برائے انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ الیگزینڈرا بلاگو جیوک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سیمینار کے انعقاد کامقصد بہتر طریقوں کو ایک متعارف کرانا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سیمینار کاانعقاد 2016 سے کیاجا رہاہے۔
سیمینارکے شرکاء نے پاکستان کی قومی اسمبلی کی جانب سے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالےسے اٹھائے جانےوالے اقدامات کو سراہا۔ پلینری سیشن کی کنوینر رومینہ خورشید عالم نے ممبر ممالک کے مندوبین کی طرف سے اٹھائے جانے والے سوالات کے جواب دیئے۔
ارکان کی جانب سے پاکستان کی پارلیمنٹ میں کی جانے والی قانون سازی کے حوالے سے کردار کااجاگر کیاگیا۔
اس موقع پر ممبر فنانشل اینڈ اکنامک فیئر کمیٹی ، نیشنل پیپلز آف چائنہ کائی لنگ نے سیمینار سے ورچوئل خطاب کیا۔