سانحہ تیزگام ، ٹرین آتشزدگی کا سب سے بڑا قومی سانحہ تھا، شہداء کو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا؛ زین العابدین میمن

14

میرپورخاص،31اکتوبر(اے پی پی ): ملکی تاریخ میں ٹرین آتشزدگی کا سب سے بڑا قومی سانحہ تیزگام جس کے شہداء کو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا جو دین اسلام اور راہ حق کے مسافر تھے، شہداء زندہ ہیں انہیں مردہ نہ کہیں۔

 ان خیالات   کا اظہار ڈپٹی کمشنر زین العابدین میمن نے ایوان صحافت میرپورخاص اور معروف سیاسی و سماجی شخصیت حاجی چوہدری نظام الدین آرائیں کے اشتراک سے مقامی ہال میں شہداء کی یاد میں قرآن خوانی و دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کے ٹرین حادثے میں میرپورخاص کے 50 مسافر شہید ہوئے ان کے ورثاء  کیلئے  ایک آزمائش کی گھڑی تھی اللہ پاک انہیں صبرو جمیل عطا کرے، ہم شہدا کے اس دکھ  میں ان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحہ میں 77 افراد شہید ہوئے تھے، میرپورخاص کے 42 شہداء کو محکمہ ریلوے کی جانب سے فی خاندان 15 لاکھ روپے دے دیے گئے تھے  جبکہ  میرپورخاص کے 50 شہداء کے ورثاء کو وزیراعلیٰ سندھ کے ملازمت دینے کے وعدے کی بھی جلد تکمیل کو ممکن بنایا جائے  گا۔

 حاجی چوہدری نظام الدین آرائیں  نے آٹھ لاپتہ شہیدوں کے تمام ورثاء کو ایک ایک قیمتی پلاٹ کی فائلیں تقسیم کیں اور وعدہ کیا کہ ریلوے انشورنس معاوضہ، سندھ حکومت کا معاوضہ اور تمام شہداء کے ورثاء کو ایک ایک ملازمت دینے کی بھرپور عملی کوشش کی جاٸے گی۔

اس موقع پر مولانا عبداللہ، مولانا ہارون معاویہ، قاری کامران، مولانا حفیظ الرحمن فیض و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو دین اسلام کی راہ میں شہید ہوئے ہیں وہ ان کے ورثا کے لیئے اعزاز کی بات ہے تمام علماء اور شہداء کے ورثاء سمیت ضلعی انتظامیہ ڈویژن کے مرکزی صحافتی ادارے ایوان صحافت کی شکر گزار ہیں جنہوں نے شہداء کے لیے اس تقریب کا انعقاد کیا۔

 لواحقین کے انشورنس معاوضے، حکومتی وعدے اور انکے مسائل کو اجاگر کیا شہیدوں کے ورثاء کی دلجوئی  کرتے ہوئے  انہیں احساس دلایا کہ ایوان صحافت سمیت میرپورخاص کے شہری اپنے شہیدوں کے ساتھ عملی طور پر کھڑے ہیں۔

 اس موقع پر  تمام شہداء کے لواحقین و فیملی، سیاسی سماجی دینی شخصیات، سول سوسائٹی و شہریوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء کو ظہرانہ دیا گیا۔