لاہور، 10اکتوبر(اے پی پی): سینئر صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کی زیر صدارت پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کا چوتھا اجلاس 90شاہراہ قائد اعظم پر منعقدہ ہواجس میں سات نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ سینئر صوبائی وزیر نے پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے امتحانی نظام پر عدم ا طمینان کااظہار کرتے ہوئے امتحانی نظام کو شفاف بنانے کی ہدایت کی۔سینئر صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مراعات لے رہے ہیں تو کارکردگی بھی دکھانا ہوگی۔ٹیکنیکل ایجوکیشن کی طرف کمزور طبقات کے بچے آتے ہیں،بورڈ منافع کمانے کی بجائے انہیں سہولیات دینے پر توجہ دے۔انہوں نے کہا کہ امتحانی مراکزپر اچھی شہرت کے حامل ایماندار لوگ لگائے جائیں۔اگر کسی امتحانی مرکز پر بددیانت نگران لگانے کی شکایت آئی تو ذمہ دار کے خلاف ایکشن ہوگا۔ فنی تعلیم کے اداروں کے دور ے کرنے والے افسران کی مانیٹرنگ ٹور مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ذریعے کی جائے گی۔ غلط اور غیر ذمہ دارانہ رپورٹ پر دورہ کرنے والے افسر کے خلاف کارروائی ہوگی۔سینئر صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ پنجاب بورڈ آف ٹیکینکل ایجوکیشن طلباء کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے اقدامات کرے اور پیپرز کی کوالٹی مارکنگ یقینی بنائی جائے۔ میاں اسلم اقبال نے کہا کہ معیاری فنی تعلیم پاکستان کے روشن مستقبل کی ضامن ہے۔ معیاری فنی تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کو جدید علوم سے آراستہ کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے۔بورڈ نے پولی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ قصور کی ڈی اے ای کے پہلے سالانہ امتحان 2022ء کے لئے ایڈمیشن ڈیٹا لسٹ پر عائد جرمانہ معاف کرنے کی منظوری دی۔سیکرٹری صنعت وتجارت ڈاکٹراحمد جاوید قاضی، چیئرمین پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈاکٹر محمد ناظر خان اور ممبران بورڈنے اجلاس میں شرکت کی۔











