مری،03 اکتوبر (اے پی پی ): مرکزی دربار عالیہ موہڑہ شریف کے سالانہ عرس کی دوروزہ تقریبات اختتام پذیر ہوگئی، عرس مبارک کی تقریبات زیر سر پرستی الحاج حضرت پیر اولیاء بادشاہ فاروق منعقد ہوئی ۔
اختتامی تقریب میں ملک کے چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے علماء کرام ،مشائخ، اسکالرز،نعت خوانوں سمیت ہزاروں عقیدت مندوں نے شرکت کی ،جن مین خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
اختتامی تقریب سے الحاج حضرت پیر اولیاءبادشاہ فاروق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت امت مسلمہ کودرپیش مسائل کا واحد حل قرآن اور سنت پرعمل پیرا ہونا ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے نظام کو قرآن و سنت ﷺمیں ڈھال کر اس کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آج دربار اور خانقائیں توحید ورسالتﷺ اور ذکر واذکار کا منبع ومرکز ہیں، کلمہ طیبہ ایک ایسی طاقت ہے کہ اس کے ذکر سے انسان کو اطمینان و سکون ملتا ہے جبکہ پاکستان بھی کلمہ کی بنیاد پر قائم ہوا ہے اور کلمہ پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہو کر ملک کومضبوط اور طاقتور بنانا ہے۔
دیگر علماء ومشائخ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی زندگی امت کے لئے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ آدھے سے زائد ملک سیلاب کی بدترین صورتحال سے دوچار ہے اورمتاثرین سیلاب کی نظریں عوام پر لگی ہوئی ہیں۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ سیلاب زدگان کی دل کھول کر امداد کریں تاکہ وہ دوبارہ اپنے گھروں میں آباد ہو سکیں۔
تقریب کے اختتام پر حضرت پیر اولیاء بادشاہ فاروق نے ملک کی امن وسلامتی ترقی و استحکام،امت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق اور کشمیر وفلسطین کی آزادی کے لیے خصوصی طور پر دعا کی ہے۔











