نشتر ہسپتال ملتان کی چھت پر ملنے والی 200 لاشیں کن لوگوں کی ہیں، ڈی این اے ٹیسٹ کریا جائے ؛ارکان قومی اسمبلی کا مطالبہ

38

اسلام آباد،17اکتوبر  (اے پی پی):مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی نے مطالبہ کیا ہے کہ نشتر ہسپتال ملتان کی چھت پر ملنے والی 200 لاشوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کرکے پتہ چلایا جائے کہ یہ کن لوگوں کی لاشیں ہیں، وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی اور وزیر مملکت برائے داخلہ عبدالرحمان کانجو کا کہنا تھا کہ یہ صوبائی معاملہ ہے اس پر صوبے سے تفصیلی رپورٹ حاصل کرکے ہی ایوان کو تفصیلات سے آگاہ کیا جاسکتا ہے۔

پیر کو قومی اسمبلی میں نکتہ ہائے اعتراض پر بات کرتے ہوئے کشور زہرا نے کہا کہ نشتر ہسپتال ملتان کی چھت پر 200 لاشیں ملی ہیں، ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا، ان لاشوں کا ڈی این اے کرایا جائے۔ قادر خان مندوخیل نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ملتان کے نشتر ہسپتال کی چھت پر سینکڑوں لاشیں پڑی ہیں، اس سے زیادہ خطرناک بات کیا ہو گی، پتہ لگانا چاہیے کہ یہ کون لوگ تھے، یہ صورتحال پنجاب حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ ان کو دفنانے کے لئے ایدھی یا چھیپا کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں۔ اس معاملے پر آئی جی پنجاب سے انکوائری رپورٹ مانگی جائے اور پارلیمانی کمیٹی بنا کر پنجاب حکومت کی کارکردگی سب کے سامنے لائی جائے۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ اس معاملے پر صوبہ سے لے کر اس کا جواب دیا جائے گا۔ یہ صوبائی معاملہ ہے، وفاق کا اس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے، صوبے سے تفصیلات لے کر ہی جواب دیا جاسکتا ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ عبدالرحمان کانجو نے بھی کہا کہ یہ بڑا دلخراش واقعہ ہے، ان کے ڈی این ایز بھی ہونے چاہئیں، ہم صوبہ سے رپورٹ لیں گے۔

قومی اسمبلی میں مولانا عبدالاکبر چترالی کی طرف سے اٹھائے گئے نکتہ اعتراض  کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ وزیراعظم نے 1717 شہید ہونے والے سیلاب متاثرین کے لئے رقم این ڈی ایم اے کو ٹرانسفر کردی ہے، پی ڈی ایم اے کے ذریعے تصدیق کے بعد رقوم کی فوری ادائیگی کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جتنے لوگ اس ناگہانی آفت کی زد میں آئے ہیں پندرہ دن کے اندر اندر حکومت نے رقم جاری کردی ہے، مسمار گھروں کا جوائنٹ سروے جاری ہے، وفاقی حکومت نے سیلاب زدگان کی امداد کے حوالے سے تمام صوبوں کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے سیلاب کی صورتحال پر بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ معزز اراکین نے تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کیا اور تجاویز دیں، بلاشبہ حالیہ سیلاب جدید دور کی سب سے بڑی ماحولیاتی تباہی تھی، دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافے کا عمل شروع ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ ترقی کا عمل ہے۔ ماحول کو نقصان پہنچانے والی گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن پاکستان ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والا دنیا کا آٹھواں ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار جو تباہی ہوئی ہے اس کی نوعیت مختلف ہے، ماضی میں ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں اور گلیشیئرز کے پانی کی وجہ سے دریائوں میں سیلاب آتے تھے اس مرتبہ جو سیلاب آیا ہے اس کی وجہ غیر معمولی بارشیں ہیں، بالائی علاقوں میں کم بارشوں کا اندازہ اس بات سے بھی ہو رہا ہے کہ منگلا ڈیم جو جولائی کے آخر تک 70 سے 80 فیصد تک بھر جاتا ہے، اکتوبر کے آخر تک بھی 50 فیصد تک بھرا ہے.

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے سیلاب متاثرین کے لئے 70 ارب روپے کی منظوری دی جن میں سے 80 فیصد سے زائد مستحقین میں تقسیم ہو چکے ہیں، لاکھوں گھرانوں کو 25 ہزار روپے نقد امداد فراہم کی گئی، متاثرہ علاقوں میں زراعت کی بحالی کے لئے گندم کی خریداری کے ضمن میں 9 ارب روپے کے پیکج کی منظوری دی گئی ہے، یہ بیج این ڈی ایم اے خریدے گی، یہ پروگرام صوبوں کے ساتھ مل کر آگے بڑھایا جائے گا۔

پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات اور ایجنڈے میں شامل امور نمٹائے گئے جبکہ سیلاب کی صورتحال پر بحث سمیٹی گئی جس کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی پینل آف چیئرپرسن کی رکن عالیہ کامران نے منگل کی شام 4 بجے تک ملتوی کردی۔