وفاقی حکومت نے متاثرین سیلاب کے لئے 69 ارب مختص کئے، اب تک 63 ارب روپے تقسیم کئے  ہیں ؛ گورنر بلیغ الرحمان

7

لاہور،07 اکتوبر (اے پی پی): گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے  کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے 1700 ہلاکتیں، ہزاروں افراد زخمی ہوئے، بحالی میں وقت لگے گا،وفاقی حکومت نے متاثرین سیلاب کے لئے 69 ارب مختص کئے، اب تک 63 ارب روپے تقسیم کئے  ہیں،وفاقی حکومت کسی صوبے سے امتیازی سلوک نہیں کررہی ہے ۔

ان خیالات کا  اظہار  گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے آج یہاں گورنر ہائوس لاہور میں سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے آپٹما (APTMA) کے زہر اہتمام 20ہزار راشن پیکس پر مشتمل ٹرکوں کا قافلہ روانہ کرنے کیبعد منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 گورنر پنجاب نے کہا کہ اس وقت پہلی ترجیح سیلاب متاثرین کی بحالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں سرگرم عمل  ہے ۔ اس حوالے سے مربوط کوششیں کی جا رہی ہیں۔ وفاقی حکومت جو سیلاب متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کر رہی ہے اس میں صوبہ پنجاب کا بھی حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات قابل فخر ہے کہ سیلاب متاثرین کی امداد کے لئے حکومت کے ساتھ ساتھ ادارے ، ضلعی انتظامیہ اور فلاحی تنظیمیں بھی بھر پور کر کام کررہی ہیں۔

گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے کہا کہ کاروباری حضرات نے ہر مشکل گھڑی میں عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور آج یہاں گورنر ہائوس لاہور سے آپٹما کے زیر اہتمام بیس(20) ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان سیلاب متاثرین کے لئے بھجوایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس خیر کار کے لئے گورنر ہائوس کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔

گورنر نے کہا کہ ملک میں آنے والے حالیہ سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے ، کروڑوں لوگ متاثر ہوئے ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔گورنر پنجاب نے کہا کہ یونیورسٹیز کوہدایت کی ہے کہ متاثرین میں خاص طور پر مدر اینڈ چائلڈ کی صحت کی ضرورت کی اشیا بھجوائی جائیں جس میں مچھردانیوں کی فراہمی، ٹینٹس اور دیگر اشیا کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

 ایک سوال کے جواب میں گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے کہا کہ ہماری تمام تر توجہ صرف متاثرین کی بحالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات درست ہے کہ یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کا ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاق کا نمائدہ صوبے کا سربراہ ہوتا ہے اور صوبے کے عوام کو درپیش مسائل سے وفاقی حکومت کو آگاہ کرنا میری ذمہ داری ہے۔