پاکستان میں ذیابیطس کا مرض خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے؛ سماجی و طبی ماہرین کا پناہ کے زیراہتمام سیمینار سے خطاب

2

اسلام آباد،24نومبر  (اے پی پی):سماجی و طبی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں ذیابیطس(شوگر) کا مرض خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ اگر فوری طور پر پالیسی اقدامات نہ کیے گئے تو 2045 میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 62 ملین ہو جائے گی۔ میٹھے مشروبات ذیابیطس پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔حکومت ان کی کھپت کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

 مقررین نے یہ بات جمعرات کو یہاں  پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے زیر اہتمام “ذیابیطس کا پھیلائو ”  کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ سیمینار  میں اراکین پارلیمنٹ، صحت و معاشی امور کے ماہرین سمیت  سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندوں  نے شرکت کی۔

  تقریب کی مہمان خصوصی پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت ڈاکٹر شازیہ اسلم سومرو  نے کہا  کہ اپنے عوام کی صحت کی حفاظت کسی بھی حکومت کی اولین ترجیح ہوتی ہے،  آئی ڈی ایف  کی رپورٹ ہم سب کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے، موجودہ حکومت  عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن حد تک جائے گی۔ انہوں نے پناہ کی کاوشوں کی تعریف کی اور یقین دلایا کہ وہ دیگر ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ مل کر میٹھے مشروبات پر ٹیکسوں میں اضافے پر اسمبلی میں آواز اٹھائیں گی۔

میجر جنرل (ر) مسعود الرحمٰن کیانی نے کہا کہ پاکستان میں این سی ڈیز میں حالیہ خطرناک اضافے کی ایک بڑی وجہ ہماری غیر صحت بخش خوراک کا انتخاب ہے۔ اگر حکومت میٹھے مشروبات کی کھپت کو کم کرنے کے لیے ان  پر بھاری ٹیکس لگانے جیسے موثر پالیسی اقدامات نہیں کرتی تو عوام کی  صحت کو خطرات بڑھ جائیں گے۔ انہوں نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ ذیابیطس پر قابو پانے کے لیے میٹھے مشروبات کے استعمال کو کم کرنے کے لیے موثر پالیسی اقدامات کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ہمیں کروناکی طرح ذیابیطس کے مرض پر قابو پانے کیلئے  بھی جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا۔

ذیابیطس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر عبدالباسط نے آئی ڈی ایف اٹلس 2021 کے پاکستان کے حوالے سے اعدادوشمار بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں سب سے زیادہ تیزی سے ذیابیطس کے مرض میں اضافہ  ہو رہا ہے۔ اس وقت  پاکستان عالمی سطح پر  ذیابیطس کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے لوگوں کا تیسرا بڑا ملک بن چکا ہے ،صرف دو سالوں میں ذیابیطس کے ساتھ رہنے والے لوگوں کی تعداد ایک کروڑ 94لاکھ سے بڑھ کر 3 کروڑ 30لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ مزید ایک کروڑ لوگ ابتدائی درجے کی ذیابیطس میں مبتلا ہیں۔اگر ہم نے جنگی بینادوں پر کام نہ کیا تو2045 تک 62ملین لوگ ذیابیطس کا شکارہو جاہیں گے۔

  پناہ کے سیکریٹری جنرل  ثناء اللہ گھمن نے کہا کہ ان کی تنظیم  عوام سے لے کر قانون  ساز اداروں  تک ہر سطح پر عوام کی صحت کے لیے  مصروف عمل ہے۔  مشروبات کی صنعت ہر قدم پر پالیسی سازوں کو گمراہ کرنے کے ساتھ ساتھ پالیسی کے عمل میں بھی رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کی طرف سے پیش کردہ ایک  اہم ” ہیلتھ کنٹریبیوشن  بل ” کابینہ میں التوا کا شکار ہے۔ مشروبات کی صنعت اپنے کارپوریٹ مفاد کی وجہ سے ہر قدم پر بل کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم، وزیر خزانہ اور وزیر صحت پاکستان سے درخواست کی کہ وہ ذاتی دلچسپی لے کر اس لائف سیونگ ہیلتھ کنٹری بیوشن بل کی جلد سے جلد منظوری  دیں۔

  کرنل ریٹائرڈ  شکیل احمد مرزا نے کہا کہ میٹھے مشروبات ذیابیطس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ شوگر والے مشروبات کا باقاعدہ استعمال ٹائپ II ذیابیطس ہونے کے خطرے کو  30 فیصدتک بڑھا دیتاہے۔ دنیا کے 50 سے زیادہ ممالک نے  پالیسی اقدامات کے ذریعے شکر والے مشروبات کے استعمال کو کامیابی سے کم کر کے ذیابیطس کو کنٹرول کیا ہے۔

 منور حسین نے کہا کہ   بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن کے مطابق، 2021 میں پاکستان میں ذیابیطس کے انتظام کی سالانہ لاگت 2640 ملین امریکی ڈالر تک بڑھ گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذیابیطس صحت عامہ اور معیشت کے لیے ایک شدید خطرہ ہے جسکی ایک بڑی وجہ میٹھے مشروبات ہیں جنکی   روک تھام کے لیے  ٹیکس میں اضافہ سب سے پہلا اور موثر ہتھیار ہے ۔  پاکستان میں ان پر ٹیکس خطے اور دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے کافی کم ہیں۔ حکومت کو ان پر ٹیکس بڑھا کر ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کے لیے  فوری پالیسی اقدامات کرنے چاہئیں اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو فوری طور پر کم از کم 30 فیصد تک بڑھانا چاہیے۔

سینیٹر سردار شفیق ترین نے کہا کہ ا ٓئی ڈی ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ذیابیطس کی دلدل میں دھنستا چلاجا رہا ہے اور اب بھی اگر ہم نے حالات کی سنجیدگی کو محسوس نہ کیاتو اس کے انتہائی خطرناک نتائج برامد ہوں گے۔ ڈاکٹر مظہر قیوم نے کہا کہ ذیابیطس دنیا میں اندھے پن کی سب سے بڑی وجہ ہے جسے کنٹرول کر کے ہم اندھے پن کو بھی کم کر سکتے ہیں۔