رواں سال پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے 33 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں 650 ہزار حاملہ خواتین اور 40 لاکھ بچے شامل پیں؛ شازیہ مری

11

میڈرڈ،27نومبر(اے پی پی):وفاقی وزیر شازیہ مری نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث رواں سال پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے 33 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں 650 ہزار حاملہ خواتین اور 40 لاکھ بچے شدید متاثر ہوئے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو یہاں 26 ویں سوشلسٹ انٹرنیشنل کانگریس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر شازیہ مری نے جنگوں اور تنازعات سے متاثرہ خواتین اوربچوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات پر بھی بات کی۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث کرہ ارض اور انسانوں کو سب سے بڑا خطرہ لاحق ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ بارشیں اور سیلاب موسمیاتی تبدیلی کی تباہ کاریوں کی تازہ مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ چند برس پہلے، سوشلسٹ انٹرنیشنل کے ممبران سمیت دنیا بھر میں بہت سے لوگ موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے پر بحث کر رہے تھے، دنیا بھر میں اس پر بحث جاری ہی تھی کہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلقہ آفات نے ہمارے اردگرد تباہی پھیلانا شروع کر دی۔

شازیہ مری نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت بن چکی ہے اور عالمی برادری اس پر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے،امید کرتے ہیں کہ عالمی برادری موسمیاتی تبدیلی پر سنجیدگی سےکچھ حقیقی اقدامات اٹھائے گی۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں ہے۔ موسمیاتی تبدیلی صحت، زراعت معاش، امن و سلامتی اور دنیا کی مجموعی معیشت کے لیےبہت بڑا خطرہ ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہمارے گرھ زمین کا مستقبل موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے پر منحصر ہے،موسمیاتی تبدیلی کےباعث دنیا کے ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

وفاقی وزیر شازیہ مری نے کہا کہ ہم فلسطین، جموں و کشمیر اور پوری دنیا کی خواتین اور بچوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں،جہاں انہیں جنگوں اور تنازعات کے نتیجے میں تشدد اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔