کراچی،31اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے کہا ہے کہ حکومت لانگ مارچ کے دباؤ میں نہیں آئے گی، عمران خان کبھی دھمکیاں دیتے ہیں اور کبھی بھیک مانگتے ہیں، موجودہ حکومت کسانوں کو ریلیف دینے پر توجہ دے رہی ہے، گندم کی نئی امدادی قیمت کا تعین کابینہ کے آئندہ اجلاس میں بحث کے بعد کیا جائے گا، وفاقی حکومت نے پہلے گندم کی امدادی قیمت 3ہزار روپے مقرر کی تھی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی تجویز کے بعد سمری واپس لے لی گئی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سٹیٹ لائف بلڈنگ میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر سید نوید قمر نے کہا کہ عوام سیلاب سے مر رہے ہیں اور عمران خان کرسی کے متلاشی ہیں۔ نوید قمر نے کہا کہ عمران خان کبھی دھمکیاں دیتے ہیں اور کبھی بھیک مانگتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی تقرری صرف وزیراعظم کا استحقاق ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے پیش نظر اسلام آباد میں معمول کی سرکاری اور تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، حکومت لانگ مارچ کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔
وفاقی وزیر نوید قمر نے کہا کہ حالیہ سیلاب کے بعد زیادہ تر زرعی زمین فصلوں کے لیے اچھی نہیں رہی لیکن کچھ رقبہ جو کہ استعمال کیا جا سکتا ہے، فصلوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت پہلے ہی گندم کی 4ہزار روپے امدادی قیمت کا اعلان کر چکی ہے اور وفاقی حکومت بھی کسانوں کے لیے اتنی ہی پرکشش قیمت کا اعلان کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے کسانوں کی سہولت کے لیے کسان پیکج کا بھی اعلان کیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے کہا کہ موجودہ حکومت کسانوں کو ریلیف دینے پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارشوں اور سیلاب سے 80 سے 82 فیصد فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ ملک کو اس شعبے کی تعمیر نو کے لیے 854 ارب روپے درکار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیلاب سے ملک میں 4410 ملین ایکڑ اراضی تباہ ہو چکی ہے، سندھ اور بلوچستان کے صوبے سیلاب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں،حکومت بحالی کے عمل اور تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو پر توجہ دے رہی ہے۔
اس موقع پر انہوں نے خاتون صحافی صدف نعیم کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندان سے اظہار تعزیت کیا۔ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو شارٹ مارچ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے روزگار کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے منتیں کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے بار بار اپنا رویہ تبدیل کیا اور اپنے نقطہ نظر پر قائم نہیں رہی۔











