پاکستان ریلوے کو چین سے 46 جدید کوچزموصول ہوچکی ہیں، پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونے سے اداروں کو چلانا مشکل ہوگیا ہے،خواجہ سعد رفیق

28

لاہور۔4دسمبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے و ہوا بازی خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے کو چین سے 230 ہائی سپیڈ جدید مکمل طور پر تعمیر شدہ یونٹ کوچز میں سے 46 کی پہلی کھیپ موصول ہوئی ہے، ان کوچز کے حصول کے بعد پاکستان ریلوے اسلام آباد میں اپنی کیرج فیکٹری میں اسی طرح کی 184 بوگیاں تیار کرنا شروع کر دے گا،پچھلے چار سال میں ایک بھی لوکو موٹیوز یا کوچ نہیں خریدی گئی اورایم ایل ون منصوبے پر بھی کوئی کام نہیں ہوا، پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے اداروں کو چلانا مشکل ہوگیا ہے،ریلوے کو خسارے سے نکالنے کیلئے ادارے کی زمینوں کو استعمال میں لانا ہو گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کوچز بنانے کیلئے چین سے جدید ٹیکنالوجی ملی ہے جو ایک بڑی کامیابی ہے ۔انہوں نےMLـ1 منصوبے پر دوبارہ کام شروع کرنے کی رضامندی پر چینی حکام کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے پاکستان ریلوے میں بہتری اور استعداد کار بڑھانے کے لیے اقدامات نہیں کیے تھے، پاکستان ریلوے میںگزشتہ دور حکومت میں ایک بھی لوکوموٹیو شامل نہیں کیا گیا،کوچز کی خریداری میں تاخیر کی وجہ سے اخراجات زیادہ آئے،اپنے سابقہ دور میں ہم نے گیارہ نئے ریلوے سٹیشن بنائے تھے جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں ایک نیا سٹیشن بھی نہیں بن سکا۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آئندہ کوچز کی تیاری پاکستان میں ہی ہو گی،بدقسمتی سے ہمارے ہاں پالسیوں کا تسلسل نہیںہے جس کی وجہ سے اداروں کو چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹرینوں میں انٹرنیٹ وائی فائی کا کام مکمل ہو چکا، پچھلے چار سال میں ایک بھی لوکو موٹیوز یا کوچ نہیں خریدی گئی،لوکو موٹیوز کیلئے دوسرے ملکوں میں انحصار کرنا پڑ رہا ہے،کیریج فیکٹری کو بھی اپ گریڈ کر رہے ہیں،آپٹیک بائبر بچھانے والے ہمیںکرایہ دینے کی بجائے ریونیو شیئرنگ کریں۔انہوں نے کہا کہ ریلوے کو شنٹنگ لوکو موٹیوز بھی درکار ہیں، وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ چار سال میں ایم ایل ون منصوبے پر بھی کوئی کام نہیں ہوا، اب ہمیں دوبارہ صفر سے کام شروع کرنا پڑ رہا ہے، ریلوے کو خسارے سے نکالنے کیلئے ادارے کی زمینوں کا استعمال میں لانا ہو گا۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ گزشتہ سالوں میں ملازمین اور افسران کے ساتھ برا سلوک کیا گیا۔