پاکستان کے پاس انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بہت زیادہ استعداد ہے جس کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے؛وزیراعظم شہباز شریف

11

اسلام آباد ، 23 دسمبر (اے پی پی ): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بہت زیادہ استعداد ہے جس کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے، جس قدر ٹیلنٹ اور ہنر پاکستان میں آئی ٹی کے حوالے سے موجودہے اس کے مقابلے پاکستان سے آئی ٹی برآمدات کافی کم ہیں جن کو بڑھانے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے جمعہ  کو یہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی خصوصاً آئی ٹی کے شعبے میں برآمدات کے فروغ کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔وزیراعظم نے کہا کہ متعلقہ وزراء اور افسران آئی ٹی برآمد کنندگان سے ایک تفصیلی ملاقات کریں اور ان کے تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے اقدامات کریں  جبکہ یونیورسٹیز ، اکادمیہ اور آئی ٹی انڈسٹری کا درمیان موجود رابطے بہتر بناۓ جایئں:۔

اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا  کہ پاکستانی اینٹرپرنیورز(entreprenuers) نے آئی ٹی سیکٹر کے فروغ اور ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے ایکسپورٹرز جنہوں نے آئی ٹی ایکسپورٹس میں خاطر خواہ اضافے کے لیے کردار ادا کیا انھیں حکومتی سطح پر سراہا جاۓ گا۔

اجلاس کو  بتایا گیا کہ گزشتہ سال  پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ 2.6  بلین امریکی  ڈالرز  رہیں اور بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ وزیراعظم کے ویژن کے مطابق ان برآمدات کو رواں سال 5 بلین امریکی ڈالرز تک بڑھایا جاۓ۔

 اجلاس کو بتایا گیا کہ سب  سے زیادہ آئی ٹی برآمدات ریاست ہائے متحدہ امریکا کو جا رہی ہیں جو کہ کل آئی ٹی برآمدات کا 57  فیصد ہے۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان کے پاس دنیا میں دوسری بڑی فری لانس ورک فورس موجود ہے جس کی استعداد میں اضافے کے لیے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ اقدامات کر رہا ہے ۔

 اجلاس کو بتایا گیا کہ آئی ٹی انڈسٹری میں نئے لوگوں کی شمولیت کے لیے یونیورسٹیز میں آئی ٹی کے حوالے سے دو سالہ ایسو سی ایٹ ڈگری پروگرامز شروع کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ آرٹیفیشل انٹیلیجینس، سائبر ٹیکنالوجی، چین  اور کلاؤڈ ٹیکنالوجی بھی حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں۔ پاکستان میں آئی ٹی کے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیےٹیک ڈیسٹینیشن  (Tech Destination) پاکستان کے برانڈ کو پوری دنیا میں متعارف کروایا جا رہا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے آئی ٹی ایکسپورٹرز کی سہولت کے لیے کراچی،  لاہور اور اسلام آباد میں ہیلپ ڈیسکس قائم کیۓ ہیں جو کہ کمشنر آئی آر لیول کے افسر کی سربراہی میں کام کر رہے ہیں۔ آئی ٹی ایکسپورٹرز کو سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام تر اقدامات کیۓ جا رہے ہیں ۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ متعلقہ وزراء اور افسران آئی ٹی برآمد کنندگان سے ایک تفصیلی ملاقات کریں اور ان کے تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے اقدامات کریں۔انہوں نے آئی ٹی برآمدات کے موجودہ حجم پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوا کہا کہ جس قدر ٹیلنٹ اور ہنر پاکستان میں آئی ٹی کے حوالے سے موجود ہے اس کے مقابلے پاکستان سے آئی ٹی برآمدات کافی کم ہیں جن کو بڑھانے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جاۓ اور اس حوالے سے مستقبل کا  لائِحَہ عمل جلد از جلد طے کیا جاۓ۔

اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات اسحاق ڈار،وفاقی  وزیر تجارت سید نوید قمر, وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام امین الحق ,وزیراعظم کے معاونین خصوصی طارق باجوہ، جہانزیب   خان , سید فہد حسین، شزا فاطمہ اور اعلی سرکاری افسران  نے شرکت کی۔