چترال؛ پاک افغان سرحدی علاقے ارندو میں عوام کا اپنے حقوق کیلئے پر امن جلسہ، بنیادی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ 

31

چترال،17نومبر(اے پی پی): پاک افغان سرحد پر واقع نہایت دور آفتادہ اور پسماندہ علاقہ ارندو میں علاقے کے عوم نے اپنے حقوق کیلئے  ایک پرامن جلسہ  کیا جس کی صدارت ویلیج کونسل ارندو کے ناظم عبد المجید نے کی۔اس جلسہ میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے بغیر کسی سیاسی وابستگی کے شرکت کی جن کا ایک پوائنٹ ایجنڈا تھا کہ ارندو کے عوام کے ساتھ انصاف کیا جائے اور ان کو بھی ترقی دی جائے۔

جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ یونین کونسل ارندو جو 25000 آبادی پر مشتمل ہے جس میں پانچ  ویلیج کونسل ہیں  مگر یہاں کے لوگ اب بھی پتھر کے زمانے کی دور کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔مقررین نے کہا کہ ارندو کی سڑک پر کچھ عرصہ قبل تعمیر کا کام شروع ہوا تھا مگر اسے ادھورا چھوڑ دیا گیا ہے اور اب بھی 32 کلومیٹر سڑک کچی ہے۔

مقررین نے کہا کہ اس وادی میں سرحد پار سے بھی مریض علاج معالجے کی عرض سے آیا کرتے تھے مگر یہاں کے دیہی مرکز صحت میں پچھلے دو سالوں سے ڈاکٹر نہیں آیا ہے جبکہ ہائی سکول میں بھی اساتذہ کی تعداد نہایت کم ہے۔

مقررین نے کہا کہ پورے ارندو میں نہ تو کوئی موبائل فون ہے نہ انٹرنیٹ اور اس جدید دور میں بھی جہاں طلباء آن لائن تعلیم حاصل کرتے ہیں یہاں  کے طلباء انٹرنیٹ جیسی بنیادی ضرورت اور سہولت سے محروم ہیں۔ انہوں نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجننیرنگ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ایچ ای نے کروڑوں روپے کا غبن کرکے پینے کے پانی کی سکیم تو لائی مگر تمام سکیمیں ابھی تک ناکام ہیں۔

انہوں نے محکمہ جنگلات پر بھی تنقید کی کہ وہاں  میرٹ پر بھرتیاں نہیں ہوئی ہیں اور محکمہ جنگلات میں یہاں کے مقامی لوگ جو حقدار ہو وہ بھرتی نہیں ہوئے ہیں۔

مقررین نے اس موقع پر پاک فوج  کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ارندو میں ایک چلڈرن پارک تعمیر کروایا ہے اور لوگوں سے دیگر کاموں میں بھی تعاون کرتے رہتے ہیں۔

مقررین نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ ارندو کو تعلیم، صحت، مواصلات اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں اور ان لوگوں کو احتجاج کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔

اس موقع پر چند نوجوانوں نے بینرز اٹھائے تھے جن پر درج تھا کہ ہمیں ہمارا حق دیا جائے۔جلسہ سے وی سی ناظم عبد المجید،حاجی غلام یوسف انسپکٹر ریٹائرڈ،  ملا ادینہ شاہ ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر،قاری علی اکبر، مولانا سمیع الحق، گل زادہ، حضرت علی، شیرین محمد وغیرہ نے اظہار خیال کیا۔