اسلام آباد،8فروری(اے پی پی):پاکستان میں ایران کے سفیر سید محمد علی حسینی نے کہا ہے کہ رواں سال پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کا حجم دو ارب ڈالر سے زائد تک پہنچ جائے گا، دونوں برادر ہمسایہ ممالک کے درمیان یکجہتی مختلف مشترکات اور روابط پر مبنی ہے جس نے مضبوط تعلقات کی راہ ہموار کی ہے، دونوں ملکوں کے مابین مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات فروغ پارہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ خصوصی تقریب کا اہتمام ایرانی سفارتخانے کے تعاون سے پاکستان ایران سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر کیا گیا تھا۔ اس موقع پر سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، ایران میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی، پاکستان میں ایرانی سفارتخانے کے ثقافتی قونصلر احسان خزاعی، ایران میں پاکستان کے سابق سفیر رفعت مسعود اور انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین خالد محمود کے علاوہ حسینی ابراہیم خانی نے بھی خطاب کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے عوام کے درمیان تعلقات صدیوں پرانے ہیں جو مشترکہ عقیدے، تاریخ اور لسانی وابستگی کے ناقابل تغیر بندھن پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران تعلقات کو متعدد پہلوئوں سے وسعت دینے کے مشترکہ عزم سے تقویت ملی ہے، دونوں ممالک کا دوطرفہ تجارت کو بڑھانے سے لے کر توانائی اور علاقائی و بین الاقوامی امور پر تعاون قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام نے کشمیر کے منصفانہ مقصد کے لیے ایران کی اصولی حمایت کو سراہا ہے، دونوں ممالک نے ایک پرامن اور مستحکم افغانستان میں بھی اہم حصہ ڈالا کیونکہ اس سے علاقائی اقتصادی انضمام اور روابط کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ دونوں ممالک نے فلسطین اور اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے جیسے مسلم مقاصد کی بھی حمایت کی ہے، دونوں ملکوں نے علاقائی اور کثیرالجہتی فورمز پر بھی قریبی تعاون کیا اور شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی رکنیت باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کا باعث بنے گی۔
سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان اور ایران نے دو طرفہ تبادلوں اور بہتر تعاون کے علاوہ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی ماحول نے نئے چیلنجز خوراک اور ایندھن کے بحرانوں کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے تنائو اور پولرائزیشن کو جنم دیا، اس تناظر میں یہ ضروری ہے کہ پاکستان ایران تعلقات مستحکم اور وسیع بنیادوں پر بڑھتے رہیں کیونکہ یہ خطے میں امن، سلامتی اور خوشحالی کا باعث بنے گا۔
ایران میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی نے تقریب کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات پوری تاریخ میں مضبوط رہے ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان لسانی تعلقات ہیں، فارسی زبان کا جنوبی ایشیا میں زبردست اثر ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھ سرحدی منڈیوں کے قیام کے لیے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں، پاکستان اور ایران نے اضافی سرحدی کراسنگ پوائنٹس بھی کھولے ہیں اور اس سے عوام کے درمیان رابطوں کو بڑھانے اور سرحدی نقل و حرکت کو آسان بنانے میں مدد ملے گی۔
سابق سفیر رفعت مسعود نے کہا کہ ہمارا پڑوس اہم ہے اور اس تناظر میں پاکستان اور ایران کو ایک دوسرے کو بہتر طریقے سے جاننے کی کوششیں کرنی چاہئیں اور حال پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان باہمی انحصار ہے۔ سرحدی تجارت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں اس شعبے میں مزید تعاون کرنا چاہیے کیونکہ ایران کے ساتھ تجارت سے پاکستان کو فائدہ ملے گا۔











