ڈبہ، کنستر اور ڈسٹ بن پہننے سے تمہاری شکل تو چھپ سکتی ہے تمہاری نااہلی، نالائقی اور کرپشن نہیں، موجودہ حکومت کے پہلے 8 ماہ میں جی ڈی پی کے تناسب سے مالیاتی خسارہ 3.4 فیصد سے کم کرکے 2.8 فیصد پر لائے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 74 فیصد کمی ہوئی، تجارتی خسارے میں 36 فیصد کمی ہوئی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں اتحادی حکومت نے ایک سال کے مختصر وقت میں معاشی تباہی کے سفر کو خوش حالی کی طرف موڑ دیا ہے۔ حکمران جماعتوں کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں مذاکرات کے معاملے پر غور کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی ‘ ٹکٹ فروش’ پارٹی بن چکی ہے، عمران سے ملاقات کی قیمت ایک کروڑ روپے ہے، ملک لوٹنے والے اب ٹکٹوں کے نام پر لوٹ مار کر رہے ہیں۔ وہ بدھ کو وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے امور معیشت وتوانائی بلال اظہر کیانی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔
اس موقع پر انہوں نے اتحادی حکومت کی کارکردگی پر دو خصوصی وڈیوز جاری کیں جن میں ایک سال کے دوران معیشت، خارجہ امور سمیت مختلف شعبوں میں ہونے والی کامیابیوں کا موازنہ پیش کیا گیا۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود 1800 ارب کا کسان پیکج دیا۔ 3 ماہ میں 6.9 ارب کے قرض نوجوانوں میں تقسیم کر چکے ہیں۔ تاریخ میں پہلی بار نوجوانوں کو زرعی قرضہ جات دئیے گئے ہیں۔ آئی ٹی شعبے میں نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے اور اسے بڑھانے کے لئے قرضہ جات دئیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشکل ترین معاشی حالات کے باوجود وفاق نے سیلاب متاثرین میں 100 ارب روپے تقسیم کئے۔ 400 ارب روپے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے تقسیم کئے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے 9 ماہ میں 1800 میگاواٹ نئی بجلی کا نیشنل گرڈ میں اضافہ کیا۔ 74 ارب روپے سے خصوصی رمضان پیکج کے ذریعے عوام کو مفت آٹا دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں اتحادی حکومت نے سابق حکومت کی چار سال میں لائی بدحالی کے سفر کو خوشحالی کی طرف موڑ دیا ہے۔ ریاست کے لئے سیاست نہیں ریاست ہماری ترجیح رہی ہے۔ ہم نے ریاست کے مفادات قربان نہیں ہونے دئیے۔ عمران خان کی چار سالہ غلط پالیسیوں کے باعث آج ملک میں مہنگائی ہے ، ہم نے دن رات ایک کر کے ملک کو ڈیفالٹ سےبچایا۔ جو شخص اپنے کیسز کو ختم کرانے کے لئے بات چیت کے لئے تیار ہو اس سے مذاکرات کرنے سے پہلے سوچنا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ غیرائینی طور پر مسلط ہونے والی حکومت کو ہم نے آئینی طور پر تحریک عدم اعتماد کے ذریعے نکالا۔موجودہ حکومت ایک سال سے ماضی کا گندصاف کر رہی ہے، ماضی کی حکومت نے معیشت تباہ کی، عوام کا آٹا ، چینی مہنگا کیا، روٹی، روزگار، کاروبار ختم کیا ، کشمیر کا سودا کیا، پھر بھی ڈھٹائی کے ساتھ یہ نااہل نالائق ٹولہ کہتا ہے کہ میں بہت مقبول ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ اپریل 2022 میں جب موجودہ حکومت آئی تو اس وقت ملک کے ہر بندے کی زبان پر تھا کہ ملک چند دنوں میں دیوالیہ ہونے والا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کا کوئی آن یا آف سوئچ نہیں ہوتا ، موجودہ مہنگائی ماضی کی چار سالہ غلط حکومتی پالیسوں کے باعث آئی ہے۔ 2018 میں مہنگائی 3.8 فیصد تھی جبکہ کھانے پینے کی مہنگائی 2.3 فیصد کی تاریخ کی کم ترین سطح پر تھی جو چار سال میں تاریخ کی بلند ترین سطح پر گئی۔
انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومت کی چار سالہ ناکام پالیسیوں اور موجودہ حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کا موازنہ خود عوام کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2018 تک ملکی معیشت مستحکم تھی، ترقی کی شرح 6.2 فیصد تھی۔ دنیا گواہی دے رہی تھی کہ پاکستان کی معیشت ٹیک آف کر رہی ہے۔ دنیا کی 20 ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شمار ہو رہا تھا۔ ہم نے دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ ختم کی۔ بجلی کی ریکارڈ 18000 میگاواٹ بجلی پیدا کی۔ پانچ سال تک آٹا 35 روپے اور چینی 52 روپے کلو برقرار رہی۔ چار سال میں 35 روپے سے آٹا 100 روپے اور 53 روپے سے چینی 120 روپے کلو ہوگئی۔ 2 کروڑ لوگ غریب اور 60 لاکھ بے روزگار ہوئے۔











