حکومت نے بلیو اکانومی کو ترقی کے ایجنڈے میں شامل کیا؛وفاقی وزیر احسن اقبال کی پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو

19

کراچی، 26 جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے  کہا ہے کہ بلیو اکانومی پاکستان کے پائیدار مالی استحکام اور ترقی کے لیے بے پناہ صلاحیتوں کی حامل ہے اور موجودہ حکومت نے اسے اپنے مستقبل کے ایجنڈے میں شامل کیا ہے۔

  پیر کو  وفاقی وزیر نے یہاں پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (پی ایم ایس اے) کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہزار کلومیٹر سے زائد طویل ساحلی لائن اور 20 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ وسیع خصوصی اقتصادی زون ملک کے لیے بے پناہ مواقع فراہم کرتا ہے۔پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے اس وقت سبز معیشت پر انحصار کرتا ہے جبکہ اس کی  بلیو اکانومی کا حجم سبز معیشت سے زیادہ ہے۔ انہوں نے  کہا کہ دونوں معیشتوں کے انضمام سے ترقی کے سفر کی رفتار کو  تیز  کیاجا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں حکومت نے چین پاکستان اقتصادی راہداری   کے تحت اہم منصوبوں میں تیزی لائی ہے جو عالمی بیلٹ اینڈ روڈ  انیشیٹوکے ساتھ مربوط ہیں اور اس سے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے نئے راستے کھلتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی  کے لئے  یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ملک کی ساحلی لائن اور سمندری سرحدوں کو محفوظ اور موثر طریقے سے مانیٹر کریں۔

وفاقی وزیر   احسن اقبال نے پاکستان کی سرحدوں کے تحفظ کے لیے  پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایجنسی جدید ترین آلات اور بحری بیڑے سے لیس ہے اور پاکستان کی سمندری سرحدوں کی چو کنا رہ کر حفاظت کر رہی ہے۔ مزید برآں، پی ایم ایس اے نے گہرے سمندر میں امدادی کاموں کی وجہ سے دنیا بھر میں ملک  کا نام  روشن کیاہے۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ 2014 میں پی ایم ایس اے کی آپریشنل صلاحیت چند پرانی کشتیوں تک محدود تھی اور اس میں مانیٹرنگ سسٹم کا فقدان تھا، پھر مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ایجنسی کو جدید بنانے کا عزم کیا اور”  پی ایم ایس  اے” میں 6 جدید بحری جہازوں اور کشتیوں کو شامل کرنے کے منصوبوں کی منظوری دی جس سے ایجنسی کی آپریشنل صلاحیتوں میں نمایاں بہتری آئی ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ پی ایم ایس اے اپنی بہتر صلاحیتوں کے ساتھ ملک کی سمندری سرحدوں کو محفوظ بنائے گا اور اپنے دائرہ اختیار میں خطرناک مواد کے ڈمپنگ اور غیر قانونی تجارت کا خاتمہ کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ایم ایس ایس کولاچی کو کراچی شپ یارڈ میں تیار کیا گیا تھا اور اسے پی ایم ایس اے کے بیڑے میں شامل کیا گیا تھا۔ کراچی شپ یارڈ میں اس سے بھی بڑے بحری جہاز تیار کرنے کی صلاحیت  ہے جس سے نہ صرف ملک کی بحری افواج میں مزید اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان قیمتی زرمبادلہ بھی کما سکتا ہے۔

قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل پی ایم ایس اے ریئر ایڈمرل امتیاز علی، ڈی ڈی جی کموڈور عامر اقبال خان، کیپٹن شاہد ستی اور دیگر افسران نے وفاقی وزیر کا پی ایم ایس ایس کولاچی پہنچنے پر استقبال کیا اور انہیں ایجنسی کی کارکردگی اور مستقبل کی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔