اسلام آباد: 22 جولائی(اے پی پی): وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 پاکستان میں انسانی حقوق کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایکشن پلان آئینی ضمانتوں کو مؤثر اور قابلِ پیمائش اقدامات میں ڈھالنے کے حکومتی عزم کا مظہر ہے اور قومی ترجیحات کے ساتھ انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
بدھ کو قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایکشن پلان کی تیاری میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، قومی انسانی حقوق کے اداروں، سول سوسائٹی، جامعات اور یو این ڈی پی پاکستان کے فعال کردار کو سراہتے ہیں۔سیکریٹری وزارتِ انسانی حقوق عبدالخالق شیخ نے کہا کہ قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 ایک وسیع قومی مشاورتی عمل کا نتیجہ ہے، جس میں چھ موضوعاتی شعبوں اور چھیاسی عملی اقدامات کو شامل کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ایکشن پلان کا مقصد قانونی و پالیسی اصلاحات، کمزور طبقات کے تحفظ، انسانی حقوق سے متعلق آگاہی، ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ، اور ڈیجیٹل حقوق، قیدیوں کے حقوق اور موسمیاتی تبدیلی جیسے ابھرتے ہوئے موضوعات پر پیش رفت کو یقینی بنانا ہے۔
پاکستان میں یورپی یونین کے ناظم الامور فلپ اولیور گروس نے پاکستان کے ساتھ جمہوری طرزِ حکمرانی اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) پاکستان کے نمائندہ ڈاکٹر سیموئل رزق نے کہا کہ یو این ڈی پی وزارتِ انسانی حقوق اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر قومی ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔
وزارتِ انسانی حقوق کے مطابق قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے لیے ایک مربوط عملدرآمدی فریم ورک فراہم کرے گا، جس کے ذریعے انسانی حقوق کے فروغ و تحفظ کے لیے قابلِ پیمائش اقدامات، مؤثر بین الادارہ جاتی رابطے اور مضبوط نگرانی کے نظام کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
تقریب میں پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری، اراکینِ پارلیمان، سفارت کاروں، اعلیٰ سرکاری حکام، وفاقی و صوبائی اداروں، قومی انسانی حقوق کے اداروں، سول سوسائٹی، جامعات، ترقیاتی شراکت داروں، اقوامِ متحدہ کے اداروں اور انسانی حقوق کے کارکنان نے شرکت کی۔











