اسلام آباد،31جولائی (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل پارلیمنٹرینز کانگریس کے نئے ہیڈکوارٹر کا قیام ہمارے مشترکہ وژن کا عکاس ہے، اس اہم سنگ میل کے لئے میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی حمایت کا تہہ دل سےشکر گزار ہوں،و زیراعظم پاکستان کی مسلسل حمایت اور رہنمائی سے آئی پی سی کے مقاصد کے حصول میں کامیابی حاصل ہوئی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیرکو انٹر نیشنل پارلیمنٹرینز کانگریس (آئی پی سی ) کے مستقل ہیڈ کوارٹر کے سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ انٹرنیشنل پارلیمنٹرینز کانگریس کے نئے ہیڈکوارٹر کا قیام ہمارے مشترکہ وژن کا عکاس ہے اس اہم سنگ میل کے لئے میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی حمایت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں،و زیراعظم پاکستان کی مسلسل حمایت اور رہنمائی سے آئی پی سی کے مقاصد کے حصول میں کامیابی حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ آئی پی سی کے مشن کے لئے حکومت پاکستان کی غیر متزلزل حمایت قابل تحسین ہے اور وزیراعظم پاکستان کی طرف سے اس ادارے کے قیام میں معاونت اور اس اہم جگہ پر اس کے لئے زمین کی فراہمی ان کی ذاتی دلچسپی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ ہم سب کی ثابت قدمی اور مسلسل کاوشوں کی بدولت آئی پی سی عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ایک اہم ادارے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے بین الپارلیمانی یونین کے صدر دوار تے پچیکوکی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھر پور تعاون اور دلچسپی سے نہ صرف اس مشن کو تقویت ملی بلکہ اس کی تکمیل میں بھی اہم کردارا دا کیا ہے، آئی پی سی کا تصور ایوان بالا سے شروع ہوا اور مختصر عرصے میں ایک اہم پلیٹ فارم بن گیا جس نے اقوام عالم کو درپیش چیلنجز کے حل کے لئے موثر روڈ میپ فراہم کیا۔ انہوں نے کہاکہ اقوام عالم کو درپیش چیلنجز جن میں امن و امان کا قیام، معاشی استحکام کو یقینی بنانا اور ماحولیاتی تغیرات کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے لائحہ عمل مرتب کرنے کے لئے پلیٹ فارم میسر ہوگا۔
محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ آئی پی سی نے 50 ممالک کے 193 اراکین پارلیمنٹ کو ایک نقطہ نظر پر یکجا کیا ہوا ہے اور عالمی چیلنجز کو ڈائیلاگ کے ذریعے حل کرنے کے لئے کو شاں ہے، بین الااقوامی مکالمے اور تعاون کی حوصلہ افزائی کرنے میں اس کا بنیادی پہلو ہے۔ اس کی مشہور اشاعت “دی پارلیمنٹرین”ہے۔ جرنل آف دی کامن ویلتھ پارلیمانی ایسوسی ایشن(سی پی اے )نے آئی پی سی کی تعریف کی ہے کہ یہ ادارہ قوموں کے مابین ایک پل کا کردار اد کر رہا ہے اور عالمی سطح پر بامعنی گفتگو کے ذریعے کامیابی سے مسائل کے حل میں موثر پلیٹ فارم ہے۔ اس ادارے کی بدولت عالمی سطح پر مثبت تبدیلوں کو متحرک کرنا آئی پی سی کی افادیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آئی پی سی ور آئی پی یوایک باہمی نقطہ نظر کا اشتراک ہے جو باہمی بات چیت، تعاون اور مشترکہ قانون سازی کی حوصلہ افزائی کے لئے امن خوشحالی اور ترقی کو فروغ دیتا ہے۔ اس سے مشترکہ ذمہ داری، صنفی مساوات، قانون کی حکمرانی، سماجی و اقتصادی پیش رفت اور بہتر معیار زندگی کے لئے رہنما اصولوں کو فروغ ملتا ہے۔
چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ اُمید ہے کہ آئی پی سی کا یہ نیا مستقل ہیڈ کوارٹر اقوام عالم کیلئے امن، خوشحالی اور ترقی کو فروغ دینے کے اہداف کے حصول کے لئے کوششیں جاری رکھے گا، اسلام آباد کے قلب میں واقع یہ سیکرٹریٹ اقوام عالم کے لئے روشن مستقبل کی اُمید اور مسائل کے حل کا مرکز ثابت ہوگا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی پی یو کے صدر دوارتے پچیکو نے کہا کہ میرے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ میں آئی پی سی کا حصہ ہوں۔ہم دنیا بھر کے پارلیمنٹرینز کی نمائندگی کرتے ہیں،پاکستان کی دنیا بھر میں امن کے فروغ کے لئے کاوشیں قابل تحسین ہیں،ہم سب مل کر دنیا کو درپیش چیلنجز سے نمبردآزما ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی پی سی میں شامل ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے بھی سیکھ سکتے ہیں۔مجھے امید ہے کہ مزید ممالک کے پارلیمنٹیرینز بھی آئی پی سی میں شریک ہوں گے،یہ ایک تاریخی لمحہ ہے کہ مختلف ممالک کے پارلیمنٹیرینز یہاں موجود ہیں۔یہ اقدام ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ثابت ہوگا۔انہوں نے اس سلسلے میں آئی پی سی کے صدر چیئر مین سینیٹ محمد صادق سنجرانی اور سیکرٹری جنرل آئی پی سی ستارہ ایاز اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کا سراہا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ میں آج آئی پی سی کے اس تقریب میں موجود ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں وزیراعظم پاکستان محمدشہباز شریف کی جانب سے اس تقریب کے انعقاد پر تمام ممالک کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے ہمیشہ عالمی چیلنجز، امن اور درپیش مسائل کے حل کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔
تقریب میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی کے علاوہ اراکین پارلیمنٹ، سینیٹرز،سفرا اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔











