لاہور، 9 جولائی(اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مشکل وقت اور آزمائشیں گزرنے والی ہیں اب پاکستان بہتری کی طرف گامزن ہے۔ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا، بیرونی ادائیگیوں میں ایک دن کی تاخیر نہیں کی گئی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی سے پنجاب کے 25 اضلاع کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور تاجر تنظیموں کے نمائندہ وفد کی ملاقات میں بطور ویڈیولنک گفتگو کرتے ہوئے کیا۔3گھنٹے طویل ملاقات میں صنعتکاروں اور تاجر برادری کے صدور اور عہدیداران نے مسائل، تجاویز اور سفارشات پیش کیں ۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیراعلیٰ محسن نقوی نے تمام مسائل اور تجاویز کو نوٹ کیا اور قابل عمل تجاویز کے حل کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وفاقی وزارت خزانہ کی معاونت سے ترسیلات زرسے متعلقہ مسائل کے حل کیلئے خصوصی سیل بنایا جائے گا۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ تاجروں او ر صنعتکاروں کوایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا خوش آئند اور قابل تحسین ہے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ محسن نقوی نے کہا کہ نئی صنعتیں لگانے اورنیا کاروبار شروع کرنے کیلئے این اوسیز کے اجراء کیلئے ون ونڈو سہولت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ میں تاجروں او رصنعتکاروں کیلئے مسائل کے حل کیلئے خصوصی سیل قائم کرنے کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ 2 روز میں خصوصی سیل قائم کردیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صنعتکاروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔صنعت لگانے کیلئے مختلف محکموں کے این اوسیز کے پرانے نظام کو یکسر بدلیں گے اور نئی انڈسٹریز کو 30دن روز کے اندر ون ونڈو آپریشن کے ذریعے این او سیز دئیے جائیں گے۔
ٹیکسٹائل انڈسٹریز اوراپٹما عہدیداروں نے پنجاب میں کپاس کی ریکارڈ فصل پر نگران وزیراعلیٰ اوران کی ٹیم کی کارکردگی کوسراہا۔محسن نقوی نے کہا کہ تاجر اور صنعتکار ملکی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے کار وبار میں آسانیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔انھوں نے وفد کو یہ یقین دہانی کروائی کہ تاجر اور صنعتکار برادری کی قابل عمل تجاویز پر ضرور غور کیاجائے گا جس کیلئے صوبائی سطح پر تاجروں کے مسائل حل کرنے کیلئے ٹیم کو متحرک کردیا گیا ہے اور صوبائی وزیر صنعت ایس ایم تنویر کو صنعتکاروں اور تاجروں کے مسائل کے حل کیلئے ذمہ داری دی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ رحیم یار خان اورلاہور میں سندر اسٹیٹ روڈز کی کشادگی کی تجاویز اور سرگودھا بھلوال روڈ کی تعمیر و توسیع کے منصوبے پر جلد عمل ہوگا۔اجلاس میں فورٹ منرو سٹیل برج کا فیز ون او رفیز تھری کی تکمیل کیلئے اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ غازی یونیورسٹی کی سولر لائزیشن کیلئے 470ملین کے فنڈز جاری ہوں گے اور ڈیرہ غازی خان سے کوئٹہ روڈ اور راجن پور روڈ کی تعمیر ومرمت اور بحالی کی جائے گی۔
اجلاس میں ساہیوال میں انڈسٹریل سٹیٹ ٹو کے قیام پر غور بھی کیا گیا۔صوبائی وزراء ایس ایم تنویر، عامر میر، اظفر علی ناصر،منصور قادر، ابراہیم حسن مراد، مشیر وہاب ریاض، چیف سیکرٹری،انسپکٹرجنرل پولیس، سیکرٹری صنعت او رمتعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے .اپٹما کے گروپ لیڈر گوہر اعجاز، انوار غنی، فواد مختار، چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز،سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹریز،فلور ملز، رائس ملز، ہارڈ ویئر مرچنٹ ایسوسی ایشن اوردیگر ایسوسی ایشنز کے صدور اور عہدے داران بھی اس موقع پر موجود تھے۔











