وزیراعظم 7 اگست کو جرنلسٹس ہیلتھ انشورنس کارڈ کا اجراءکریں گے؛  مریم اورنگزیب

8

اسلام آباد،24جولائی(اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے صحافیوں کی ہیلتھ انشورنس کیلئے آن لائن رجسٹریشن فارم کا اجراءکرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف 7 اگست کو صحافیوں کے لئے ہیلتھ انشورنس کارڈ کا اجراءکریں گے، سابق حکومت نے نواز شریف کے ہیلتھ کارڈ منصوبے کا نام بدلا، ہم نے صحافیوں کے ساتھ کالا دور دیکھا، سینسر شپ دیکھی، میڈیا کا گلا گھونٹتے ہوئے بھی دیکھا، ایک مخصوص ٹولہ پیمرا (ترمیمی) بل 2023ءپر پروپیگنڈا کر رہا ہے، موجودہ حکومت کے دور میں صحافیوں کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوئی، انہیں تھپڑ نہیں مارے گئے، پسلیاں نہیں ٹوٹیں، گولیاں نہیں لگیں، موجودہ حکومت کو میڈیا پریڈیٹر کا خطاب نہیں ملا بلکہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے درجہ بندی میں سات پوائنٹس کی بہتری آئی۔

 پیر کو یہاں صحافیوں کے لئے ہیلتھ انشورنس فارم کے آن لائن اجراءکے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق ورکنگ جرنلسٹس کے لئے ہیلتھ انشورنس سکیم متعارف کروائی جا رہی ہے، حکومت نے اس مقصد کے لئے وفاقی بجٹ 2023-24ءمیں ایک ارب روپے کے فنڈز مختص کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2013 میں نواز شریف کے دور میں ہیلتھ کارڈ سکیم شروع ہوئی جس کا باقاعدہ آغاز 2014 کے اوائل میں ہوا جسے پورے ملک میں پھیلایا گیا، یہ سکیم 2018 تک جاری رہی جبکہ سابق دور میں اس سکیم کا نام تک بدل دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ورکنگ جرنلسٹس کو صحت کی سہولیات تک رسائی یقینی بنانے کے لئے وزارت اطلاعات کو ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ پی آئی ڈی کی سطح پر اس منصوبے کا آغاز کرے، ڈیجیٹل فارم کے ذریعے صحافیوں کی ہیلتھ انشورنس کے لئے رجسٹریشن کا آغاز کیا جا رہا ہے، اس سکیم کے پورے عمل کو شفاف بنایا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف 7 اگست کو اس سکیم کے تحت ہیلتھ کارڈ جاری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن فارم کو آسان اور سہل انداز میں بنایا گیا ہے جس کے اندر تمام تفصیلات موجود ہیں۔ یہ فارم وزارت اطلاعات اور پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائیٹس پر ریڈ لنک کے ساتھ موجود ہے، صحافی حضرات اس میں اپنی رجسٹریشن کا آغاز کریں۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ صحافیوں کو فراہم کی جانے والی ہیلتھ انشورنس میں رینل ٹرانسپلانٹ، کینسر، ڈائیلائسز، اینڈوسکوپی، ڈے کیئر سرجری سمیت دیگر بیماریوں سے متعلق علاج معالجہ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو ہیلتھ انشورنس، تنخواہوں، ملازمتوں کے تحفظ کے حوالے سے ہمیشہ سے مسائل درپیش رہے ہیں۔ گزشتہ 14 ماہ کے دوران آئی ٹی این ای کے پلیٹ فارم سے 11 کروڑ روپے میڈیا آئوٹ لیٹس سے ریکور کر کے متاثرہ ملازمین کو براہ راست ادائیگیاں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا ترمیمی بل میں الیکٹرانک میڈیا میں کم از کم اجرت، تنخواہ اور جاب سکیورٹی کو جوڑ دیا گیا ہے، کونسل آف کمپلینٹ میں ان مسائل کے حوالے سے شکایات کی جا سکتی ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت تھی کہ صحافیوں کو ہیلتھ انشورنس کی جلد اور شفاف طریقے سے فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اس سکیم میں صحافی برادری سمیت تمام ورکنگ جرنلسٹس کو شامل کیا گیا ہے، یہ منصوبہ پورے پاکستان کے لئے ہے، ملک بھر کے صحافی اس میں رجسٹریشن کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں صحافیوں کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوئی، انہیں تھپڑ نہیں مارے گئے، پسلیاں نہیں ٹوٹیں، گولیاں نہیں لگیں، موجودہ حکومت کو میڈیا پریڈیٹر کا خطاب نہیں ملا بلکہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے درجہ بندی میں سات پوائنٹس کی بہتری آئی۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا کے اندر میڈیا کو شراکت داری دے کر مزید شفاف بنایا گیا، چیئرمین پیمرا کے اختیارات میں کمی کر کے کمیٹی کو تفویض کئے گئے ہیں اور فیصلہ سازی کا اختیار کونسل آف کمپلینٹ کے پاس ہوگا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ سکیورٹی اینڈ پروٹیکشن آف جرنلسٹس کے تحت کمیشن کے قیام کا اشتہار وزارت انسانی حقوق کی طرف سے اخبارات میں جاری ہو چکا ہے، کمیشن کے سربراہ کے لئے درخواستیں دی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی سکیورٹی نواز شریف کا وژن تھا، صحافیوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے اور انشاءاللہ یہ سفر جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صحافیوں کے ساتھ کالا دور بھی دیکھا، سینسر شپ بھی دیکھی، میڈیا کا گلا گھونٹتے ہوئے بھی دیکھا۔ ایک مخصوص ٹولہ بیرون ملک مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن پر جرمانے دیتا اور کیس ہارتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ ملک میں وہ ڈس انفارمیشن یا مس انفارمیشن پھیلائے گا تو کوئی اسے پوچھ نہیں سکتا۔

 انہوں نے کہا کہ پیمرا قانون یو این ہیومن رائٹس اور یونیسکو کی ڈیفی نیشن کے مطابق ہے، اس میں تمام انٹرنیشنل بیسٹ پریکٹسز کو شامل کیا گیا ہے اور اس کا مقصد ذمہ دار میڈیا کی تشکیل اور اسے فیصلہ سازی میں شامل کرنا ہے۔

 صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہیلتھ انشورنس سکیم صرف پریس کلب کے ممبران کے لئے نہیں بلکہ تمام صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہے، ہیلتھ انشورنس سکیم میں رجسٹریشن کے لئے کسی صحافی کا پریس کلب کا رکن ہونا لازمی نہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پیمرا ترمیمی بل 2023 کی تیاری میں شامل کسی نمائندہ باڈی نے اس بل کے خلاف بات نہیں کی، مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن پھیلانے والے حلقے جھوٹ بول رہے ہیں، پی بی اے کا بیان سامنے آ چکا ہے، آن ریکارڈ وہ اس فیصلہ سازی میں حصہ دار تھے۔

 وفاقی وزیر نے کہا کہ صحافیوں کیلئے ہیلتھ انشورنس سکیم محدود نہیں، اس میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پرائم منسٹر ہیلتھ کارڈ اور صحافیوں کے لئے ہیلتھ انشورنس الگ الگ سکیمیں ہیں، جو صحافی پرائم منسٹر ہیلتھ کارڈ سکیم سے مستفید ہو رہا ہے وہ صحافیوں کی ہیلتھ انشورنس سکیم کا اہل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی ہیلتھ انشورنس سکیم میں رجسٹرڈ ہونے والے صحافیوں کو تمام تفصیلات فراہم ہوں گی کہ وہ کس طرح علاج معالجہ کی سہولیات حاصل کر سکتے ہیں۔

 وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 14 ماہ کے دوران تقریباً 150 سے زائد ڈمی اخبارات کو منسوخ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور ٹیکس پیئرز کا پیسہ ہے کسی جعلی اخبار یا جعلی صحافی پر نہیں لگ سکتا۔ قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات نے صحافیوں کے ہمراہ جرنلسٹس ہیلتھ انشورنس کے لئے آن لائن رجسٹریشن فارم کا اجراءکیا۔ اس موقع پر پرنسپل انفارمیشن آفیسر مبشر حسن بھی موجود تھے۔ یہ سہولت پرائم منسٹر ہیلتھ انشورنس سکیم برائے میڈیا ورکرز اینڈ جرنلسٹس 2023  کے تحت دی جا رہی ہے جس کے لئے حکومت نے وفاقی بجٹ میں ایک ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے۔ اس سکیم سے ملک بھر کے صحافی مستفید ہو سکتے ہیں، اس کے لئے پریس کلب کا رکن ہونا لازمی نہیں۔

 آن لائن رجسٹریشن فارم کے اجراءکو ممکن بنانے پر وفاقی وزیر اطلاعات نے سیکریٹری اطلاعات سہیل علی خان، پی آئی او مبشر حسن اور وزارت اطلاعات کی ٹیم کو مبارکباد دی۔