اسلام آباد۔26جولائی (اے پی پی):چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کو بتایا ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی طالبات کے جنسی ہراسگی معاملہ پر ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنا ئی جارہی ہے جس کا نوٹیفکیشن آج ہی جاری ہو جائے گا،کمیٹی میں تین وائس چانسلر شامل ہوں گے جو معاملہ کی تہہ تک پہنچنے تک وہیں بیٹھے گی، آئی بی یو کا آڈٹ اور آپریشن پرفارمنس رپورٹ بھی بنانے جا رہے ہیں۔ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کا اجلاس بدھ کو چیئرمین کمیٹی مخدوم سید سمیع الحسن گیلانی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں سامنے آنے والے جنسی ہراسگی کے معاملہ کو زیر بحث لایا گیا۔ چیئرمین ایچ ای سی نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ اس معاملہ پر ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں جس میں تین وائس چانسلرز شامل ہوں گے، یہ کمیٹی معاملہ کی تہہ تک پہنچے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی کا نوٹیفکیشن آج ہی جاری کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا المیہ ہے کہ ہمیں امپاور نہیں کیا گیا بلکہ پہلے سے جو ہمارے اختیارات تھے کم کئے جا رہے ہیں،آئی یو بی معاملے پر دنیا بھر میں ہماری بدنامی ہوئی ہے، اس وقت ہمارے پاس نئے چارٹر کے 35 کیسز آئے ہوئے ہیں جن میں پانچ کو اجازت دی جا رہی ہے، 17کیسز میں تفصیلات فراہم نہیں کی جا رہیں۔چیئرمین ایچ ای سی نے آئی یو بی کی جعلی ڈگری سے متعلق زیر بحث معاملہ پر کہا کہ کام کرنے والے بہانے نہیں بناتے اور کام نہ کرنا ہو تو حجتیں ہزارکی جاتی ہیں ،ڈپٹی رجسٹرار اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور نے کمیٹی شرکاء کو بتایا کہ میڈیا میں سامنے آنے والے معاملہ پر چیف سکیورٹی آفیسر کو معطل کیا جا چکا ہے ،چیف سکیورٹی افسر اس وقت زیر حراست ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر ہے، اس وقت اس معاملہ کی انکوائری کیلئے تین کمیٹیاں کام کر رہی ہیں، اس انکوائری کمیٹیز کی طرف سے اس معاملے پر جو بھی سفارشات سامنے آئیں گی جامعہ انتظامیہ اس پر کارروائی عمل میں لائے گی، جعلی ڈگری کے معاملہ پر ڈی پی او بہاولپور نے جعلی ڈگری کے معاملے پر مقدمہ کے اندراج سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ اینٹی کرپشن کے پاس جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس معاملہ نے زیر تعلیم 35000 بچیوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے،یہ معاملہ ایف آئی اے (سائبر کرائم) کے حوالے کرنا پڑے گا۔ڈی پی او بہاولپور کو بلایا تھا وہ نہیں آئے اس معاملے پر آر پی او بہاولپور کو بلا لیتے ہیں۔رکن کمیٹی حامد حبیب نے کہا کہ تینوں کمیٹی اراکین کو بلائیں، ابھی تک ماسوائے چیف سکیورٹی افسر کی گرفتاری کے کچھ نہیں کیا گیا، ابھی تک انٹرنل انکوائری نے اس معاملے پر کیا کام کیا ہے۔ رکن کمیٹی حامد حبیب نے پوچھا کہ کیا اس سارے معاملے میں کوئی سیاستدان یا اس کا بیٹا بھی ملوث ہے جس پر آئی یو بی حکام کی طرف سے بتایا گیا کہ اس وقت اس پر کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔رکن کمیٹی حامد حبیب نے کہا کہ ابھی تک تین ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، ایک شخص کو قربانی کا بکرا بنا کر باقی کالی بھیڑوں کو چھوڑا نہیں جا سکتا، اس میں ملوث تمام کرداروں کو بے نقاب کرنا ہو گا۔











