اسلام آباد،26اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نےمیڈیکل شعبے کی تعلیم میں یونیورسٹی کی خدمات ، مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ شعبہ صحت سے متعلق پالیسیوں میں بیماریوں کے علاج کے ساتھ بچائو پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ، وقت سے پہلے بیماریوں سے بچائو اور بروقت تشخیص سے صحت کےنظام پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جاسکتا ہے ۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد کی سینیٹ کے6 واں اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ اجلاس میں سینیٹر ثمینہ ممتاز اور شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر تنویر خالق سمیت سینیٹ ممبران نےشرکت کی۔اجلاس میں یونیورسٹی کی کارکردگی اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی ۔
شرکاء کو بتایا گیا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی نے نرسنگ کے شعبے سمیت دیگر شعبوں میں داخلوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ قلیل عرصے میں مختلف شعبوں میں 429 سپیشلسٹ تیار کرچکی ہے ،شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی بین الاقوامی سطح پر مختلف شعبوں میں خطیر تحقیقاتی گرانٹس جیت چکی ہے۔شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی میڈیکل کے شعبے میں تحقیق میں بھی نمایاں کاکردگی کی حامل ہے۔شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی مستقبل میں نئے پی ایچ ڈی پروگرامز شروع کرنے جا رہی ہے ، شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اپنے پہلے تدریسی بلاک کی تعمیر بھی مکمل کرے گی۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہاکہ بیماریوں سے بچائو پر توجہ دیکر کم قیمت میں ملک کی مجموعی صحت کی صورتحال میں بہتری لائی جاسکتی ہے ، صرف بیماریوں کے علاج پر توجہ سے ملک کی صحت کی ضرورریات پوری نہیں ہورہی ۔صدر مملکت نے ملک بھر میں بیماریوں سے بچائو کیلئے آگاہی کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا کہ ملک کو بڑی تعداد میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی ضرورت ہے ، جامعات گریجوایٹس بڑھانے پر توجہ دیں ، عام آدمی کی صحت سہولیات تک رسائی بڑھانے کیلئے صحت کے شعبے میں تربیت یافتہ افراد کی تعداد بڑھانا ہوگی ،خواتین ڈاکٹروں کی شعبہ صحت میں خدمات برقرار رکھنے کیلئے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نےکہا کہ خواتین کو کام کی جگہ پر دوستانہ اور ہراسیت سے پاک ماحول فراہم کرنا ہوگا، جامعات تحقیق کے شعبے میں اپنی کارکردگی بڑھائیں، بیرون ملک سے ریسرچ گرانٹس کے حصول کیلئے ماہر افراد کی خدمات حاصل کرنا ہوں گی۔
اجلاس میں یونیورسٹی کے قیام کے دس سال مکمل ہونے پر کامیابیوں اور صحت کے شعبے میں خدمات بارے بھی بتایا گیا۔سینیٹ کے اجلاس میں شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کی سالانہ رپورٹ بھی پیش کی گئی ۔سینیٹ نے یونیورسٹی کے ملازمین کے سروس قوانین میں ترمیم کی بھی منظوری دی ۔











