نگران صوبائی وزیر صحت کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ آنکولوجی کے زیر اہتمام بریسٹ کینسر کےموضوع پر منعقدہ آگاہی سیمپوزیم اور واک میں بطور مہمان خصوصی شرکت

19

لاہور،05 اکتوبر(اے پی پی) نگران صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ آنکولوجی کے زیر اہتمام بریسٹ کینسر کے موضوع پر منعقدہ آگاہی سیمپوزیم اور واک میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔تقریب کے گیسٹ آف آنر وائس چانسلر ایف جے ایم یو پروفیسر خالد مسعود گوندل تھے۔وائس چانسلر پروفیسر محمود ایاز نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔اس موقع پر ڈاکٹر عباس کھوکھر، پروفیسر وارث فاروقہ، پروفیسر احمد عزیر قریشی، پروفیسر رب نواز میکین، پروفیسر مام جی، پروفیسر حفیظ بٹ،پروفیسر سائمہ امیر، پروفیسر نادیہ خورشید، پروفیسر کرن خورشید ملک، ڈاکٹر زینب زبیر، ڈاکٹر ماہم سمیت نرسز اور ڈاکٹرز کی کثیر تعداد موجود تھی۔نگران صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم کا شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی اہم موضوع پر آگاہی سیمینار کے انعقاد پر انتظامیہ کو شاباش دیتا ہوں اور مادر علمی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں آنا ایک اعزاز سے کم نہیں ہے۔ 19 اکتوبر پوری دنیا میں بریسٹ کینسر سے بچاؤ کیلئے آگاہی دینے کا دن منایا جاتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ پاکستان میں بریسٹ کینسر کے اعدادوشمار انتہائی خطرناک ہیں۔پاکستان میں ہر 100 میں سے 9 خواتین بریسٹ کینسر کا شکار ہیں۔ہمارے معاشرے میں بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی پھیلانا انتہائی اہم ہو چکا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے بریسٹ فیڈنگ میں بہت طاقت رکھی ہے۔بریسٹ فیڈنگ سے انکار سمجھداری نہیں بلکہ جہالت ہے جبکہ حکومت پنجاب صوبہ بھر میں بریسٹ کینسر کے خاتمہ کیلئے ایک ریسرچ سٹڈی کروانے جا رہی ہے۔ چالیس سال عمر کے بعد ہر خاتون کو میموگرافی کروانی چاہئیے۔ نگران صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے اس موقع پر بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی لیکچر دینے والے تمام اساتذہ کو یادگاری شیلڈز بھی تقسیم کیں۔وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز کا شرکاء سے خطاب نے کہا کہ لوگوں میں کینسر سے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے آگاہی اور احتیاطی تدابیر کرنا ضروری ہیں۔  کینسر سے بچاؤ کیلئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لائیں گے۔ کینسر بارے آگاہی اور بروقت تشخیص سے علا ج ممکن ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز نے کہا کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پہلا طبی ادارہ ہے جہاں ملکی سطح پر بریسٹ کینسر کے ماہرین تیار کر رہے ہیں۔ وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے  بھی شرکاء سے خطاب کیا کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کو پروفیسر محمود ایاز جس انداز میں آگے لے کر جا رہے ہیں اس کی مثال 162 سالوں میں نہیں ملتی۔ پروفیسر خالد مسعود گوندل کا مزید کہنا تھا کہ آگاہی کے لئے میڈیا کا بہت اہم کردار ہے۔جلد تشخیص اور علاج سے کینسر جیسے مرض کو شکست دی جاسکتی ہے۔ اور جو خواتین بریسٹ فیڈنگ کرتی ہیں ان میں بریسٹ کینسر سے کافی حد تک محفوظ رہتی ہیں۔پروفیسر احمد عزیر قریشی کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال تقریبا ایک لاکھ افراد اس موزی مرض کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر اور پاکستان میں ہر آٹھویں عورت بریسٹ کینسر کے مرض میں مبتلا ہے۔شعبہ انکالوجی اور ریڈیو تھراپی کے سربراہ ڈاکٹر عباس کھوکھر کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اموات کی دوسری بڑی وجہ کینسر کا مرض ہے جبکہ دنیا میں عورتوں میں بریسٹ کینسر کی وجہ سے اموات پہلے نمبر پر ہیں اور پاکستان میں تقریبا ہر سال ایک لاکھ اسی ہزار کینسر کے نئے مریضوں کا اضافہ ہو جاتاہے۔ واک میں نرسنگ پیرا میڈیکس سٹاف اور زندگی کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی شرکا نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر اس مرض سے بچاو کی تدابیر اور معالج سے بروقت رابطہ کرنے کی ہدایات درج تھیں۔نگران صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے وزیر اعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی کی جانب سے نئے کیفے ٹیریا کے افتتاح کے بعد پہلا دورہ بھی کیا۔