اسلام آباد ، 30 نومبر ( اے پی پی ):وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق خلیل جارج نے کہا کہ ملکی ترقی میں سب سے زیادہ حصہ نوجوانوں کا ہے، نوجوانوں کی فکری،علمی تربیت اورکردار سازی ہی تبدیلی کا باعث بنے گی۔وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق خلیل جارج نے ان خیالات کا اظہار یو این ہیبیٹٹ کے تحت تین روزہ تربیتی کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا جسکا ٹائٹل “خواتین اور کمزور طبقہ کے پراپرٹی ، لینڈ اور ہاوسنگ کے حقوق کی حفاظت ” ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر دن عورت کا دن ہے۔تمام انبیاءکرام اور بڑی بڑی ہستیوں نے عورت سے جنم لیا ،عورت قابل تکریم ہے اور رہے گی اور عورت ہی کے حقوق کی عدم فراہمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جا سکتی،عورت کی عزت اسلام کے بنیادی حقوق کا کلیدی جزو ہے ، عورت کمزور نہیں ہے بلکہ عورت کے حقوق کی حفاظت ہماری اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو مس گائیڈ نہ ہونے دیا جائے ،انکی سوچ اور عمل کا صحیح سمت میں گامزن ہونا ہی ہماری کامیابی ہے اور معاشرے میں سدھار کا باعث بن سکتا ہے۔برین ڈرین نے ہمیں بہت نقصان پہنچایا ہے، اپنے ملک کی خدمت کرنے کو تیار رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ موبائل کے غلط استعمال نے خاندانی نظام کی دھجیاں اڑادیں ہیں کیونکہ موبائل نے ماں ، باپ اور بہن بھائی کی جگہ لے لی ہے۔
سینیٹر فوزیہ ارشد نے الیکشن کمیشن کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ریزرو نشستوں پر خواتین کی الیکٹورل پراسس میں شمولیت خواتین کی متناسب نمائندگی کےلئے کافی نہیں ہے،دراصل ہمارے معاشرے میں الیکشن پراسس میں علاقے کے بااثر لوگوں کو اس کام کیلئے نظام کا حصہ بنایا جاتا ہے،صنفی امتیاز اور خواتین کی الیکٹورل پراسس میں بھرپور شمولیت اس نہج پر نہیں کی جاتی جسکا کہ آج کے حالات تقاضہ کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق ، تعلیم ، روزگاراور صحت کی فراہمی کے مساوی مواقع فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے ، سیاسی پارٹیوں کے ویسٹرن ایجنڈا کی وجہ سے معاشرے میں عدم اعتماد کی فضا ءنے جنم لیا۔
ثمر ہارون بلور سابقہ ایم پی اے اور ترجمان عوامی نیشنل پارٹی نے کہا کہ میں اپنا ذاتی تجربہ یہاں بیان کروں گی کہ خیبر پختونخوا ہ کی سیاسی پارٹی اور ایک سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے کی بناء پر سیاسی جدوجہدکے اس سفر میں بہت سی سماجی اور معاشرتی مشکلات کا سامنا رہا، ہمارے پورے ملکی نظام میں جائیداد ، ملکیت ہمارے لئے بہت ہی چیلنجنگ ایشو بن جاتا ہے،زمین و جائیداد کے تنازعے نپٹانے میں ہماری ایک نسل قربان ہو جاتی ہے کیونکہ اس جنگ کیلئے مالی طور پر بہت مضبوط ہونا ضروری ہوتا ہے جو کہ ہر عورت کے بس کہ بات نہیں ہوتی، ایک عورت جسکے سر پر سربراہ نہیں اسکے تحفظ اور بنیادی حقوق کی فراہمی ولینڈ لاز کو لاگو کر کے ہی ایسی عورت کیلئے مضبوط ڈھال بنایا جاسکتا ہے، صوبائی کمیشن برائے حقوق نسواں اور محتسب کا ادارہ فعال ہے اور زمین کے تنازعوں سے نپٹنے کےلئے متاثرہ خواتین کو پوری طرح قانونی تحفظ فراہم کریں گے،انہوں نے کہا کہ زمین اور پراپرٹی کے حقوق جیسا کہ حق مہر وغیرہ لکھے تو جاتے ہیں مگر عورت کو دئیے نہیں جاتے اور آج بھی معاشرے میں میل شاونزم کا شکار ہیں۔انہوں نے کیا کہ اومبڈس پرسن کا رول بہت اہمیت کا حامل ہے اور خیبرپختونخواہ میں یہ ادارہ اپنی خدمات انجام دے رہا ہے،ثمر ہارون بلور نے مزید کہا کہ ہمارا سلیبس علاقائی زبانوں میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ترتیب دیا جانا چاہیے ، اے این پی نے خیبرپختونخوا کے تعلیمی اداروں میں اپنے منشور میں خواتین و بچیوں کی مفت تعلیم اور وظائف کا آغاز کیا ہے۔
عمار جعفری سربراہ ایس ڈی جی اکیڈمی نے نیشنل کانفرنس کے شرکاءسے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 3کروڑ بچے اسکول نہیں جا رہے اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں،خواتین کو پر اعتماد ماحول کی فراہمی اور مساوی بنیادوں پر سیاسی اور سماجی نظام میں شمولیت ہی معاشرے میں بنیادی تبدیلی لانے کا ضامن ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ٹی ٹیکنالوجی کے ذریعے دیہی خواتین کو شعور اور آگاہی دی جاسکتی ہے کہ عملی طور پر وہ اپنے روزگار کو چلانے کے قابل ہو سکیں اور اپنی پراڈکٹس کو مڈل مین کے کردار کے بغیر مارکیٹ کرنے کے قابل ہو سکیں۔
پینل میں شریک لیگل ایکسپرٹس نے کہا کہ خواتین کی ترقی اور خوشحالی اور روزگار کے مواقعوں اور وسائل کی فراہمی کیلئے آنے والے الیکشن میں ہر سیاسی پارٹی کو اس امر کو اپنے منشور کا بنیادی حصہ بنانا ہو گاانہوں نے کہا کہ اسلام کی اصل تعلیمات کو عام کرنا اور 1400 سال پہلے کے فریم ورک کو اپنانے میں ہی معاشرے کی بقاءہے، آج نوجوان بھی خود کو مارجنلائیزڈ سوسائٹی کا حصہ سمجھنے لگے ہیں۔
یو این ہیبیٹٹ ایکسپرٹ زاہد نسیم خٹک نے کانفرنس کے دوران برین سٹارمنگ اور مقصدیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایسا پروگرام دوبارہ بھی منعقد کیا جائے گا کیونکہ یہ آگہی اور شعور پھیلانے کے لئیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔UNHCR کے تحت یو این ہیبیٹٹ ٹریننگ پروگرام کے ذریعے ہم نے پورے پاکستان سے نوجوانوں کو تربیتی ورکشاپ کا حصہ بنایا، پہلے مرحلے پر پروگرام کی لانچنگ ہوئی ، تین دن کا ٹریننگ سیشن ہوا ٹرینرز کے ساتھ اور ماسٹر ٹرینرز یہ تربیت دور دراز کے علاقوں سیلاب زدگان ، قدرتی آفت کا شکار علاقوں میں جا کر دیں گے۔اس پلیٹ فارم کے تحت ہم نوجوانوں کو ایمپاور اور یوتھ ایڈواکیسی کی گراس روٹ لیول پر فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ ڈاکٹر سید محمد انور نے کہا کہ اسلام نے خواتین کو بہت سے بنیادی حقوق دئیے ہیں ، برصغیر میں اسلام صوفیائے کرام کی وجہ سے پھیلا جسکے بعد اصل دین اسلام کے ڈھانچے میں ہندوانہ رسوم رواج غالب رہیں جیسے کہ جہیز جیسا فرسودہ ررواج آج بھی ہمارے رسوم و روایات میں شامل ہے جبکہ اسلام نے خواتین کو بہت پہلے ہی وراثت کے حقوق سے نوازاہے۔











