نوجوان ملک کی تیز رفتار ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں ،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

18

اسلام آباد،2نومبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک کی تیز رفتار ترقی میں نوجوانوں کے کلیدی کردار پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو اس مرحلے میں  تیز رفتار ترقی کی ضرورت ہے ۔

وہ جمعرات کو کامسیٹس یونیورسٹی کے 26 ویں کانووکیشن سے خطاب کر رہے تھے ۔  صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اگر طلباء اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں معاشرے کے اندر  انصاف کو یقینی بنائیں، ملک کی ترقی میں  کلیدی  حصہ ڈالیں اور اپنے وسائل غریبوں کے ساتھ بانٹنا سیکھیں تو ملک ترقی اور خوشحالی کی نئی بلندیوں کے چھوئے گا ۔ انہوں نے کہا کہ آج  مصنوعی ذہانت یا کمپیوٹر سائنس ہر پیشے کا دوسرا مرحلہ ہے۔دنیا بہت تیزی سے  ترقی کر رہی ہے  اس لیے ہمیں دنیا کی طرح اسی رفتار سے چلنا چاہیے۔بصورت دیگر ملک خطے اور دنیا سے  بہت  پیچھے رہ جائے گا۔دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے تاہم خطے میں پاکستان کی ترقی کی رفتار نسبتاً کم ہے۔انہوں نے کہا کہ انٹرمیڈیٹ کے کل طلباء میں سے 9 فیصد اعلیٰ تعلیم میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوتے ہیں جبکہ خطے میں یہ تناسب 25 فیصدسے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو ملک میں تیزی سے ترقی کے لیے طلباء کے اندراج میں اضافہ کرنا چاہیے۔ بروقت فیصلہ نہ کرنا سست ترقی کی ایک بڑی وجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر ہمارے پاس وژن کی کمی تھی ،  ہم وقت سے پہلے بجلی کی ضرورت کا اندازہ نہیں لگا سکتے تھے اور جب وقت آیا تو ہم نے ایسے پاور پلانٹس لگانے کا ہنگامی فیصلہ کیا جن کی لاگت بہت زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک بھارت نے 2012 میں ڈیٹا پالیسی کا اعلان کیا تھا جبکہ پاکستان نے ایک دہائی کے بعد 2022 میں اس کا اعلان کیا  اور اس میں میری ذاتی کوششیں شامل تھیں ۔

 تقریب کے دوران صدر مملکت نے یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں ٹاپ پوزیشن ہولڈرز میں میڈلز اور کامیاب طلباء کو ڈگریاں دیں۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ حصول علم، اچھی تربیت اور انسانیت سے محبت کا درس دیا۔انہوں نے کامیاب امیدواروں کو ڈگریاں حاصل کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ اب ملک کے اشرافیہ بن چکے ہیں کیونکہ ملک میں تقریباً 28 ملین یا 40 فیصد بچے ابھی تک سکولوں سے باہر ہیں۔ ملک میں تمام سکول نہ جانے والے بچوں کے لیے تقریباً 55000 سکولوں کی عمارتوں کی ضرورت ہے جو کہ انتہائی مشکل تھا۔ ہنگامی بنیادوں پر کچھ آؤٹ آف دی باکس حل درکار ہیں کیونکہ یہ ان پڑھ بچے بعد میں ملکی معیشت پر بہت بڑا بوجھ بن جائیں گے جو ملک کے لیے کوئی نتیجہ خیز حصہ نہیں ڈال سکیں گے۔اس تناظر میں صدر نے طالبات کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی ڈگریوں کو مکمل طور پر استعمال کریں اور ملک کی ترقی کے لیے تندہی سے کام کریں۔

انہوں نے کہا کہ عام طور پر جیسے ہی لڑکیوں کی شادی ہوتی ہے، وہ کام کی جگہ پر ہراساں کیے جانے کے خوف سمیت متعدد وجوہات کی بنا پر اپنی پیشہ ورانہ زندگی چھوڑ دیتی ہیں۔ خواتین کو ہراساں کرنے کو روکنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے محکمہ  تعلیم سمیت دیگر اداروں کو ہدایت دی کہ  اگر خواتین کی   سروس  اور  تعلیم  میں گیپ ہو تو ڈیوٹی جوائن کرنے پر ان کا خیر مقدم  کیا جائے ۔

صدر مملکت  نے کہا کہ اس ملک کی سب سے خوبصورت ثقافت مشترکہ خاندانی نظام ہے جو معاشرے میں محبت کی علامت ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو صرف ایک چیز کی کمی محسوس ہوتی ہے وہ اپنے وطن کی محبت اور خاندانی ثقافت ہے۔