پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات نہیں ہیں ، مسئلہ فلسطین اس وقت پوری دنیا کا مسئلہ ہے، اہل فلسطین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ،حافظ طاہر محمود اشرفی

3

 

اسلام آباد،20نومبر  (اے پی پی):وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے  برائے بین المذاہب و ہم آہنگی  حافظ طاہر محمود اشرفی نے دو ٹوک طور پر کہاہے کہ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات نہیں ہیں ، مسئلہ فلسطین اس وقت پوری دنیا کا مسئلہ ہے، اہل فلسطین کو تنہا نہ چھوڑیں گے نہ چھوڑا جا سکتا ہے،پاکستان دشمن قوتیں چاہتی ہیں کسی طرح سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہو،گزشتہ  چندروز سے ہندوستان کے اخبارات اور سوشل میڈیا پر ایک بے بنیاد اور شر انگیز  مہم چلی۔ پیر کو  یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے  برائے بین المذاہب و ہم آہنگی  حافظ طاہر محمود اشرفی  نے کہا کہ 7 اکتوبر کو غزہ کا واقعہ ہوا،وزارت خارجہ نے  اسی دن فلسطین کے ساتھ   یکجہتی کا  اعادہ کیا،وزیر خارجہ نے پریس کانفرنس کی اور فلسطین کے ساتھ بھرپور حمایت کا اظہار کیا جبکہ  پاکستان میں حکومتی سطح پر پاکستان کی جانب سے فلسطین کیلئے امداد روانہ کی گئی ۔ انہوں نےآرمی چیف کے ساتھ علماو مشائخ کی حالیہ ملاقات کے بارے میں  کہا کہ یہ ملاقات  بہت مفید اورکامیاب رہی۔تمام علماء و مشائخ نے آرمی چیف کو مکمل تعاون اور حمایت کا یقین دلایا ۔علماء نے ملاقات میں غیر قانونی  غیر ملکیوں کی واپسی کے معاملہ پر مکمل اتفاق کیا ہے ۔لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ بعض مفاد پرست عناصر  نے  اس ملاقات کے بعد ایک بے بنیاد  مہم  شروع کردی جس میں  کہا گیا کہہ آرمی چیف اور علماء کے درمیان ایک بلٹ پروف شیشہ لگایا گیا تھا۔  حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ  بھارت سے کچھ فیک اکاؤنٹ بناکر آپریٹ کئے جاتے ہیں اور ہمارے کچھ عاقبت نا اندیش اس پر اعتبار کرتے ہیں ۔قوم کو انتشار اور اس طرح کی مہم کو سمجھنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ میں بھی مسئلہ فلسطین سر فہرست سامنے آیا۔او آئی سی اجلاس میں بھی پاکستان کا واضح دو ٹوک موقف سامنے آیا ہے ۔وزیراعظم پاکستان نے براہ راست  فلسطینی صدر سے رابطہ کیا ۔وہاں سب سے پہلے ملاقات بھی پاکستانی وزیراعظم نے فلسطینی صدر سے کی ۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر ہماری اساس  ہیں  اس سے روگردانی ممکن ہی نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان  کا  مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر پر موقف بالکل واضح ہے ۔چین میں وزرائے خارجہ اجلاس  ہونےجارہا ہے چین ہمارا برادر ملک ہے ۔پاکستان کا سعودیہ، قطر، ایران، مصر سمیت تمام اسلامی ممالک سے اس معاملے پر رابطہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے،42 سال تک اس کیلئے قربانیاں دیں ۔ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں ہمارے پاکستانیوں کا خون نہیں بہنا چاہیے، ہمیں اپنے لوگ عزیز ہیں ۔غیر قانونی افراد کو یہاں سے بھیجنے پر کسی قسم کا عذر نہیں ہونا چاہیے ۔ہم اسلام آباد کیساتھ کابل میں بھی امن چاہتے ہیں ،کیا ہمارا حق نہیں کہ جو غیر قانونی طریقے سے یہاں رہ رہے ہیں انہیں واپس بھیجیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہمسایہ کا فرض ہے کہ وہ ہمسایہ کا بھی خیال کرے ۔  انہوں نے کہا کہ کوئی غیر قانونی طالب علم کسی وفاق سے متصل مدرسے میں موجود نہیں ہے ۔وفاق المدارس اس حوالے سے پہلے ہی اپنا کام مکمل کر چکے ہیں، کوئی غیر قانونی طالب علم مدارس میں نہیں ہیں  ۔