اسلام آباد،11 دسمبر(اے پی پی): وفاقی وزیر برائے ثقافت جمال شاہ نے کہا کہ ہمیں خواتین کے کردار کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ باخبر فیصلہ ساز ہیں۔ ایک معاشرہ تبھی ترقی کر سکتا ہے جب وہ اہم پالیسی فیصلوں میں خواتین کو جگہ فراہم کرے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے یو این ویمن اور حکومت جاپان کے تعاون سے وفاقی دارالحکومت، اسلام آباد میں تاریخی 16 روزہ مہم بعنوان “کوئی جواز نہیں” کے اختتام پر منعقدہ تقریب سے خطاب میں کیا ۔ تقریب میں نہ صرف آئین پاکستان کی 50 ویں سالگرہ کے جشن بلکہ خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے نازک مسئلے کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ انکے بنیادی حقوق اور مساوات کے عزم کو بھی تقویت دی گئی۔
نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن، نیلوفر بختیار نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ جب ہم ان 16 دنوں کی سرگرمی کا اختتام کر رہے ہیں، تو آئیے اپنے آئین کے اصولوں کو تجارتی تحریک کے ساتھ جوڑیں، اور اجتماعی کوششوں اور معاشی تبادلے کے ذریعے ایک ایسے پاکستان کی راہ ہموار کریں جہاں پاکستان کے ہر شہری کے لیے مساوات پروان چڑھیں، تشدد ختم ہو، اور خوشحالی آئے ۔
تقریب میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق خلیل جارج نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “کوئی جواز نہیں” ،ایک اصول سے زیادہ ہے ، یہ ہمارا رہنما ہے، ہمارا نقطہ نظر پالیسیوں سے آگے بڑھتا ہے ۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے، یو این ویمن پاکستان کی کنٹری نمائندہ شرمیلا رسول نے کہا کہ ہماری مہم“کوئی جواز نہیں”انصاف اور مساوات کے 50 سال کی یاد مناتے ہوئے، پاکستان کے آئین کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔
تقریب میں گھر پر کام کرنے والے کارکنوں کے تعاون کو اجاگر کرنے کیلئے ایک نمائش کا بھی اہتمام کیا گیاہے جس میں وہ خواتین شامل ہیں جنہوں نے اقوام متحدہ کے معاشی بااختیار بنانے کے اقدام کی مدد سے اپنی زندگیاں بدل دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ مہم اس سال کی تھیم، “خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کو روکنے کے لیے سرمایہ کاری کریں” کو فعال طور پر فروغ دیتی ہے اور اسکی وکالت کرتی ہے ۔
صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف 16 دن کی سرگرمی ایک بین الاقوامی سول سوسائٹی کی زیر قیادت سالانہ مہم ہے۔ یہ 25 نومبر کو خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن سے شروع ہوتی ہے، اور 10 دسمبر، انسانی حقوق کے دن پر ختم ہوتی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد دنیا بھر میں انسانی حقوق کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہے۔











