اسلام آباد،11دسمبر (اے پی پی):خاتون اول بیگم ثمینہ علوی نے ملک میں چھاتی کے کینسر سے متعلق جاری آگاہی مہم کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بیماری کے ایڈوانس سٹیج (تیسرے اور چوتھے مرحلے) پر رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد کو کم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں کرکٹ میچ کے بعد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہوتی ہے جب میں طبی امداد کے لیے پہلے اور دوسرے مرحلے کے مریضوں میں قابل ستائش اضافہ دیکھتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں مجموعی طور پر چھاتی کے کینسر سے صحت یاب ہونے کی شرح 98 فیصد ہے تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں ناکافی میموگرافک سہولیات کی وجہ سے موت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چھاتی کے کینسر کی وجہ سے44 ہزاراموات ایک تشویشناک صورتحال ہے جس کے لیے بیماری کی جلد تشخیص کے بارے میں مسلسل آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے صحت مند سرگرمیوں کے ذریعے بریسٹ کینسر کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
خاتون اول نے ذہنی صحت اور تندرستی کے بارے میں آگاہی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ معذور افراد کے حقوق کی وکالت کرنے پر بھی زور دیا تاکہ وہ معاشرے کا نتیجہ خیز حصہ بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ چھاتی کے کینسر، معذور افراد کے حقوق اور دماغی صحت کے موضوعات پر سال بھر کھل کر بات کی جانی چاہیے، ہمیں نہ صرف حکومت بلکہ پورے معاشرے کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔
خاتون اول نے مارگلہ ٹینس کلب کی جانب سے بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی کے لیے ایسی صحت مند سرگرمی کے انعقاد پر کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں مستقبل میں بھی جاری رکھی جائیں۔ انہوں نے ایونٹ کے منتظمین اور میڈیا ٹیموں اور مرد اور خواتین دونوں ٹیموں کے کرکٹ کھلاڑیوں میں ایوارڈز/شیلڈز بھی تقسیم کیں۔











