اسلام آباد، 22 دسمبر (اے پی پی):نوجوان نسل کو تمباکو کے خطرات سے بچانے کیلئے پائیدار اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں، اس سلسلے میں چوتھی گلوبل ٹوبیکو انڈسٹری انٹرفیس انڈیکس رپورٹ 2023 کی رپورٹ کے حوالے سے گزشتہ ہفتہ ایک تقریب سوسائٹی فار الٹرنیٹیو میڈیا اینڈ ریسرچ (SAMAR) کے زیراہتمام منعقد کی گئی۔
مقررین نے اے پی پی سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ عالمی ادارہ صحت نے بھی تمباکو انڈسٹری کی مہلک مصنوعات اور اس کے فرنٹ گروپس کے اس ، جھوٹے پروپیگنڈے سے عوام کو بچانے کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر “جھوٹ بند کرو” مہم کا باضابطہ آغاز کیا ہے۔ اس حوالے سے ایڈوائزر ایس ڈی پی آئی ڈاکٹر وسیم جنجوعہ نے کہا کہ نیشنل ٹوبیکو کنٹرول سٹریٹیجی کو یکسوئی کے ساتھ نافذ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
فوکل پوائنٹ دی سٹاپ، ثانیہ علی خان نے کہا کہ وزارت صحت حکومت پاکستان اور تمباکو کنٹرول سیل ، تمباکو کے استعمال کو محدود کرنے کے لئے امید افزاء کام کر رہے ہیں جبکہ دیگر مقررین نے کہا کہ نیشنل ٹوبیکو کنٹرول سٹریٹجی کے منظرنامے کے بعد یہ ایک بروقت رپورٹ ہے اور امید ہے کہ حکومت اس رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد کرے گی۔ کیونکہ تمباکو کی صنعت نوجوان نسل کو متوجہ کرنے کے لیے اپنی نئی تمباکو اور نیکوٹین مصنوعات کی ایک مثبت تصویر بناتے ہوئے مارکیٹنگ کے مختلف حربوں کو استعمال کر رہی ہے۔
تقریب میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر SAMAR مظہر عارف, سینیئر ٹیکنیکل ایڈوائزر وائٹل سٹریٹیجی، خرم ہاشمی، فوکل پوائنٹ دی سٹاپ،ثانیہ علی خان اور ایڈوائزر SDPI ڈاکٹر وسیم جنجوعہ، کمیونیکشن آفیسر اشفاق احمد اور پراجیکٹ کو آرڈینیٹر ذیشان دانش کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔











