ملتان، 07 مارچ(اے پی پی ): لودھراں پائلٹ پراجیکٹ کے زیر اہتمام اور بیسٹ سیلر کے تعاون سے پاورڈ بائے ویمن پراجیکٹ کے تحت عورتوں کے عالمی دن 2024 کے موقع پر ایمپاور ہر کانفرنس بہاؤالدین زکریّا یونیورسٹی میں منعقد کی گئی ۔ اس ایمپاور ہر کانفرنس 2024 میں مختلف موضوعات پر پینل ڈسکشنزمنعقد ہوئے جس میں ویمن پروٹیکشن، جنسی ، تولیدی صحت وحقوق ،معاشرتی امن عامہ میں صنفی مساوات کی اہمیت و کردار ، تعلیم، اور معاشی بااختیار بنانے جیسے اہم مسائل پر توجہ دلائی گئی اس کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ اور خواتین کی ترقی کے حوالے سے بھی موضوعات پر بات چیت کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے طلباء نے عورتوں کے عالمی دن کے حوالے سے ڈرامے پیش کئے۔
کانفرنس کے اس موقع پر پاکستان کی سماجی اور علمی شخصیات جس میں جامعات کے وائس چانسلرز، لودھراں پائلٹ پراجیکٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد عبدالصبور، سنیئر فیکلٹی، طلبا و طالبات سمیت سیاسی اور سماجی شخصیات، انسانی حقوق اور سول سوسائٹی سے منسلک خواتین شامل تھیں۔ انہوں نے نہ صرف شرکت کی بلکہ مثبت پہلوں پر روشنی ڈالی۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، وائس چانسلر، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی نے کانفرنس کے دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ عورتوں اور لڑکیوں کے معاشی تحفظ میں مدد دینے، صنفی بنیاد پر ہر طرح کے تشدد کی روک تھام اور اس کے خلاف اقدامات، صحت، تعلیم، انصاف، انسانی حقوق اور قانون کے تحت مساوات اور انسانی امداد تک اِن کی رسائی بڑھانے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور سلامتی سے متعلق مسائل سمیت تمام شعبہ جات میں خواتین کی قیادت اور فیصلہ سازی کو فروغ دینے، سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی اور جمہوریت کے فروغ کے لیے بدستور پوری طرح پُرعزم ہونا چاہئے۔
پریکریتی ڈھکل ، فاؤنڈر ساؤتھ اینڈ سنٹرل اایشیاء سی ایس آر ایچ آر اینویشن ہب نے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مردوں اور عورتوں میں جنسی صحت کے حوالے سے بیداری کی اب بھی بہت کمی ہے۔ جس کا نتیجہ عام طور پر جنسی اور تولیدی صحت کے مسائل کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ خاص طور پر خواتین آگاہی کی کمی یا سماجی ممنوعات اور دیگر کئی وجوہات کی وجہ سے نہ تو اپنے مسائل کے بارے میں زیادہ بات کر پاتی ہیں اور نہ ہی ان کا بروقت علاج کروا پاتی ہیں۔ جو نہ صرف ان کی جسمانی صحت بلکہ ان کی ذہنی اور جذباتی صحت کو بھی متاثر کرتی ہے۔
ڈاکٹر محمد عبدالصبور ، چیف ایگزیکٹو آفیسر ، لودھراں پائلٹ پراجیکٹ نے کہا کہ خواتین کی زیادہ تر آبادی کو بنیادی اور خاص کر تولیدی صحت کی مناسب سہولیات میسر نہیں ہیں جس کے باعث ہر لاکھ میں سے 186 خواتین دوران زچگی انتقال کر جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ تقریبا 90 فیصد سے زائد خواتین کی آبادی وراثت کے حق سے محروم کر دی جاتی ہے۔ اگر کوئی باہمت خاتون مذہب کے مقرر کردہ اس حق کے لیے کوشش کرتی ہے تو اسے اس کے اپنوں کی جانب سے ہی سماجی قطع تعلقی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اسے سالہا سال تک عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ ملک میں وراثت کے قوانین لاگو کیے جا چکے ہیں لیکن کتنی ہی خواتین ہیں جو وسائل اور آگاہی نہ ہونے کے باعث مناسب فورم سے رجوع کرنے سے قاصر ہیں۔
کرن ناز، سینئر جرنلسٹ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ 8 مارچ خواتین کا عالمی دن منانے کا مقصد خواتین کو مردوں کے مساوی وہ مواقع فراہم کرنا ہیں تاکہ معاشرے میں پھیلتی عدم برداشت ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں، یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ لودھراں پائلٹ پراجیکٹ ہمیشہ خواتین ، ٹرانسجینڈر ، اقلیت و دیگر کے حقوق پر بات کرتی ہے ساؤتھ پنجاب جیسے علاقوں میں خواتین کو بااختیاربنانے میں انکا بہت اہم کردار ہے جو کہ نہایت خوش آئند بات ہے۔
مس اقصی احمد، پراجیکٹ منیجر، لودھراں پائلٹ پراجیکٹ نے کانفرنس کے دوران بات کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں صنفی مساوا ت کی تعلیمات کو فروغ دینے کی اشدضرورت ہے، اور پاورڈ بائے ویمن پراجیکٹ کی کوشش ہے کہ پاکستان میں صنفی مساوات کو آگے بڑھایا جائے اور لڑکیوں کو بااختیار بنایا جائے۔
تقریب کے اختتام پر ساؤتھ پنجاب کی چیمپئن بچیوں کے درمیان طلوع سحر پروگرام کے تحت تین بچیوں میں سکوٹیز تقسیم کی گئیں۔