چیلنجز کو مواقع میں بدلنے کیلئے غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ اولین ترجیح ہے؛وزیراعظم  شہباز شریف  کا بیرونی سرمایہ کاری  بارے جائزہ اجلاس سے خطاب

25

اسلام آباد،2اپریل  (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ چیلنجز کو مواقع میں بدلنے کیلئے غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ ہماری اولین ترجیح ہے،وفاقی وزارتوں میں سرمایہ کاری کے حوالے سے جدت اور  تحقیق کے لئے خصوصی سیلز قائم کئے جائیں گے،تمام وزارتیں خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے متعلقہ مفاہمتی یادداشتوں پر پیشرفت کے حوالے سے ان ممالک کے ساتھ اپنے روابط میں مزید بہتری لائیں،مظفرگڑھ ، لیہ اور جھنگ کے شمسی توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے حوالے سے تمام تر ضروری تقاضے پورے کئے جائیں،ریکوڈک سے گوادر بندرگاہ تک ریلوے کنیکٹوٹی کے لئے فزیبلٹی سٹڈی کرائی جائے،تھر کول کی پاور پلانٹس تک رسائی کے لئے ریلوے لائن پر کام شروع کیا جائے۔منگل کو

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت بیرونی سرمایہ کاری کےحوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا ۔اجلاس میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت خلیجی ممالک  سے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چیلنجز کو مواقع میں بدلنے کیلئے غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ ہماری اولین ترجیح ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی وزارتوں میں سرمایہ کاری کے حوالے سے جدت اور  تحقیق  کے لئے خصوصی سیلز قائم کئے جائیں گے۔

 وزیراعظم نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے قیام سے سر مایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں مدد ملی ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایسے منصوبے جو کہ سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی استعداد رکھتے ہیں ان کی فزیبلٹی سٹڈی کرائی جائے اور اس حوالے سے بین الاقوامی شہرت کے حامل ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں ۔

 انہوں نے تاکید کی کہ جو منصوبے سرمایہ کاری کے لئے پیش کئے جائیں ان کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ وزیراعظم نے تمام وزار توں کو خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے متعلقہ مفاہمتی یادداشتوں پر پیشرفت کے حوالے سے ان ممالک کے ساتھ اپنے روابط میں مزید بہتری لانے کی بھی ہدایت کی۔

 وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مظفرگڑھ ، لیہ اور جھنگ کے شمسی توانائی کے منصوبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے تمام تر ضروری تقاضے پورے کئے جائیں۔  مزید برآں وزیراعظم کی جانب سے ریکو ڈک سے گوادر بندرگاہ تک ریلوے کنیکٹوٹی کے لئے فزیبلٹی سٹڈی کرانے کا بھی کہا گیا۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ چنیوٹ آئرن اور  منصوبے میں بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جائیں اورتھر کول کی پاور پلانٹس تک رسائی کے لئے ریلوے لائین پر کام شروع کیا جائے ۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ گوادر پورٹ کی ڈریجنگ کا کام مکمل ہو چکا ہے جس کے بعد اب وہاں بڑے بحری جہاز لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ خلیجی ممالک سے توانائی خصوصاً قابل تجدید توانائی ، آئل ریفائننگ، کان کنی، غذائی تحفظ ، بینکنگ اینڈ فنانشل سروسز ، لاجسٹکس ، واٹر سپلائی اور ویسٹ مینجمنٹ کے شعبوں میں کثیر سرمایہ کاری متوقع ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر بحری امور قیصر احمد شیخ ، وفاقی وزیر پاور اویس احمد خان لغاری ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی ، رکن قومی اسمبلی بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی جبکہ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وفاقی وزیر پیٹرولیم مصدق ملک اور  وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ  بذریعہ وڈیو لنک اجلاس میں شریک ہوئے۔