اسلام آباد،23 اپریل (اے پی پی ):قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ رکن اسمبلی علی محمد خان نے حالیہ سیلاب میں جاں بحق افراد کی مغفرت کے لیے دعا کرائی۔معاشی صورتحال پر بحث کے لیے تحریک ایوان میں پیش کی گئی، تحریک مصطفیٰ کمال، آسیہ اسحٰق اور حسان صابر نے پیش کی۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، زرعی جی ڈی پی 5 فیصد سے بڑھ رہی ہے، زراعت اور آئی ٹی کو کیسے سہولیات دینی ہیں یہ ہم پر منحصر ہے، اس سال تین اعشاریہ تین بلین ڈالر کی سافٹ ویئر ایکسپورٹ ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ تمام مالک پاکستان کی معاشی کامیابی چاہتے ہیں، عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کے ساتھ مذاکرات کیے، اگلے ہفتے تک آئی ایم ایف سے 1.1ارب ڈالر کی قسط بھی مل جائے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 9فیصد ہونے سے ترقی نہیں ہوسکتی، ایوان میں بتانا چاہتا ہوں عوام کو ٹیکسز دینے پڑیں گے، اب ٹیکس دیے بغیر گزارہ نہیں ہے۔
سود کے حوالے سے اراکین کی تقاریر پر رد عمل دیتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ شرعی عدالت نے اس حوالے سے فیصلہ کر دیا ہے اس پر مزید بحث کی گنجائش نہیں تھی کیونکہ اس کیلئے پانچ سال کا وقت ہے جس میں شرعی عدالت کے فیصلے کے تحت سٹیٹ بینک نے تمام بینکنگ کو اسلامی نظام میں ڈھالنا ہے، کئی بینکوں کی برانچیں اسلامی بینکنگ میں تبدیل ہو چکی ہیں، حکومت اور سٹیٹ بینک اس حوالے سے کام کر رہے ہیں۔











